کوئٹہ(این این آئی) وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان کابینہ نے 5لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، صوبے میں گندم کی خرابی اور بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے پالیمانی سب کمیٹی قائم کردی ہے، صوبے میں شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے آئی جی پولیس کو 7 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ بات انہوں نے کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 23واں اجلاس، اہم اور دور رس فیصلے کئے گئے، کابینہ کی 31 جنوری کے دہشت گردی واقعات کی مذمت، شہداء کو خراجِ عقیدت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر منصوبے کی منظوری دی گئی اور پانی کے مؤثر استعمال اور زرعی پیداوار میں اضافے کا ہدف طے کیا گیا، اجلاس میں بلوچستان لینڈ لیز پالیسی 2026 منظور کر لی گئی جس سے سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں غذائی تحفظ کے لیے 0.50 ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ گیا ہے ساتھ ہی سرکاری گندم میں بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کابینہ نے پارلیمانی سب کمیٹی قائم کردی ہے اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے احکامات جاری کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی ڈی اے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی گئی ہے اس کے ساتھ ہی خودمختار اداروں کی تنظیم نو کا فیصلہ بھی کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ 2025 اور لیویز فورس ترمیمی بل 2025 منظور کر لیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے قومی شاہراہوں پر سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے آئی جی پولیس کو 7 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔شاہد رند نے کہا کہ صوبے میں امن، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ٹھوس اقدامات جاری رہیں گے۔

