شہید ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ — اصولی سیاست کا استعارہ

اداریہ

بلوچ قومی سیاست اور طلبہ تحریک کی تاریخ میں شہید ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کا نام ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ اُن رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد کے بجائے قومی شعور، جمہوری اقدار اور آئینی جدوجہد سے وابستہ رکھا۔ ان کی برسی ہمیں نہ صرف ایک فرد کی یاد دلاتی ہے بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک سیاسی روایت کی یاد بھی تازہ کرتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز طلبہ سیاست سے کیا اور نوجوانوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کے لیے منظم جدوجہد کی۔ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بانی چیئرمین رہے اور اس پلیٹ فارم کو محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک فکری مکتب میں تبدیل کیا۔ ان کی قیادت میں طلبہ سیاست نے شعوری اور نظریاتی بنیادیں حاصل کیں، جس نے بعد ازاں بلوچ قومی سیاست کو نئی سمت دی۔
پارلیمانی سیاست میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔ کم عمری میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونا ان کی عوامی مقبولیت اور سیاسی بصیرت کا ثبوت تھا۔ ایوان کے اندر انہوں نے آئینی بالادستی، جمہوری تسلسل اور وسائل پر مقامی حقِ حاکمیت کے اصولی مؤقف کو جرات مندی سے پیش کیا۔ وہ اختلافِ رائے کو جمہوریت کا حسن سمجھتے تھے اور دلیل و مکالمے کے ذریعے اپنے مؤقف کو آگے بڑھاتے تھے۔
بعد ازاں نیشنل پارٹی کے قیام اور استحکام میں ان کا بنیادی کردار رہا۔ انہوں نے ایک ایسی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جو نظریاتی وابستگی، تنظیمی نظم و ضبط اور جمہوری سیاست کی علمبردار تھی۔ ان کی قیادت میں سیاست کو تشدد کے بجائے آئینی اور پرامن جدوجہد سے جوڑا گیا، جو آج بھی کارکنوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
شہید ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی زندگی اس امر کی گواہ ہے کہ اصولی سیاست وقتی طور پر مشکل ضرور ہوتی ہے، مگر تاریخ میں اسی کا وقار باقی رہتا ہے۔ ان کی استقامت، نظریاتی پختگی اور عوامی وابستگی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج جب سیاست میں عدم برداشت، موقع پرستی اور نظریاتی ابہام بڑھتا دکھائی دیتا ہے، ایسے میں ان کی فکر اور کردار کی معنویت مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہ اداریہ اس عہد کی تجدید کا تقاضا کرتا ہے کہ سیاست کو دوبارہ اصول، شعور اور عوامی خدمت سے جوڑا جائے۔ شہید ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومی حقوق، جمہوری تسلسل اور آئینی بالادستی کے لیے مستقل مزاجی اور فکری دیانت ناگزیر ہے۔ ان کی برسی محض ایک یادگار دن نہیں بلکہ ایک فکری احتساب اور تجدیدِ عہد کا موقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں