آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی 7ویں سالگرہ، 27 یومِ وقار کے طور پر منایاگیا

اسلام آباد(اے ایس این) آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی 7ویں سالگرہ، 27 یومِ وقار کے طور پر منایاگیا۔اس دن دشمن کی نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ بری طرح ناکام بنایا گیا تھا، بھارتی غرور خاک میں ملنے کی یاد تازہ ہوئی۔پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی سے دشمن کا جھوٹا بیانیے دفن،پاکستان کے پرامن اور ذمہ دارانہ کردار کو دنیا نے تسلیم کیا۔آزادحکومت کی جانب سے اس موقع پرتوقع کے برعکس کوئی منظم سرگرمیاں نہ کی جاسکیں،تفصیلات کیمطابق گذشتہ روز آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے سات مکمل ہو گئے۔ اس موقع پر دشمن کے غرور کو خاک میں ملانے اور قومی وقار کے تحفظ کی یاد میں ملک بھر میں خصوصی سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔یاد رہے کہ 27 فروری 2019ء کو بھارت نے پلوامہ واقعے کی آڑ میں نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کا ایک اور ڈرامہ رچانے کی کوشش کی، تاہم بھارتی طیارے بالاکوٹ کے جنگلات میں محض پے لوڈ گرا کر واپس لوٹ گئے۔ اس کے برعکس پاکستان نے فوری، مؤثر اور ذمہ دارانہ ردِعمل دیتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔اس کارروائی کے دوران پاک فضائیہ نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، جبکہ بھارتی فضائیہ کا ایک طیارہ مار گرایا گیا اور اس کا پائلٹ ابھی نندن گرفتار ہوا۔ یہ واقعہ دشمن کے کھوکھلے دعوؤں اور جھوٹے بیانیے کے خاتمے کا سبب بنا۔آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی اس شاندار کامیابی نے نہ صرف بھارت کے عسکری غرور کو خاک میں ملایا بلکہ دنیا کے سامنے پاکستان کے پرامن، ذمہ دار اور بالغ نظر کردار کو بھی اجاگر کیا۔ عالمی برادری نے کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کے طرزِ عمل کو سراہا۔اے ایس این کے مطابق شہدائے وطن میڈیا سیل حسبِ روایت اس سال بھی 27 فروری کو یادگاری، آگاہی اور اظہارِ تشکر پر مبنی خصوصی سرگرمیاں کی گئیں، تاکہ قوم کو شہداء کی قربانیوں اور دفاعِ وطن کے عزم کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔شہدائے وطن میڈیا سیل کے چیئرمین آغا سفیرحسین کاظمی کا کہنا ہے کہ ہم نے طویل صبرآزما حالات میں کوششیں کرکے سرکاری تعلمی ادارے،تنصیبات شہدائے وطن سے منسوبیت کے عمل کو نتیجہ خیز بنایا،مگران اداروں میں اب تک قومی اہمیت کی سرگرمیاں تسلسل سے شروع نہیں کی جاسکیں،کہ جنہیں حکمت عملی طے کرنا چاہیے وہ تاحال توجہ نہیں دے پائے۔بعض موقع پرکسی وقتی ضرورت کے تحت کسی تعلیمی ادارے میں علامتی سرگرمی کرکے فوٹو سیشن کرلیا جاتا ہے۔اُنھوں نے چیف سیکرٹری، محکمہ تعلیم اور پاک فوج کے درمیان مربوط روابط کوناگزیرقراردیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں