مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی اور کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے

اداریہ

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایسے نازک وقت میں ضروری ہے کہ جذبات کے بجائے دانش مندی اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ نظریاتی اختلافات، علاقائی اثر و رسوخ کی جنگ، اور سیکیورٹی خدشات برسوں سے دونوں ممالک کو آمنے سامنے لاتے رہے ہیں۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ ایران اسرائیل کی علاقائی پالیسیوں اور فلسطینی مسئلے پر اس کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ، اسرائیل کا قریبی اتحادی ہونے کے ناطے، ایران پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپناتا رہا ہے، جس میں اقتصادی پابندیاں اور سفارتی تنہائی شامل ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کسی مسئلے کا حل ہو سکتی ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں لڑی جانے والی جنگوں نے مسائل کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھایا ہے۔ عراق، شام اور یمن کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں طویل تنازعات نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا، معیشتوں کو تباہ کیا اور انتہا پسندی کو فروغ دیا۔ اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی منڈی اور بین الاقوامی سلامتی پر گہرے ہوں گے۔
مزید برآں، ایسی جنگ خطے کو وسیع تر تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ مختلف علاقائی طاقتیں اور مسلح گروہ اس تنازع میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی شمولیت ایک بڑے جغرافیائی سیاسی بحران کو جنم دے سکتی ہے، جس کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
اس پس منظر میں عالمی برادری کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ سفارتی مذاکرات، اعتماد سازی کے اقدامات، اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے، مگر دیرپا استحکام نہیں لا سکتا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران اپنے اپنے قومی مفادات کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں اور علاقائی امن کو بھی مدِنظر رکھیں۔ جنگ کا راستہ تباہی کی طرف جاتا ہے، جبکہ مذاکرات کا راستہ امید کی کرن بن سکتا ہے۔ دانش مندانہ قیادت ہی اس خطے کو ایک اور بڑے سانحے سے بچا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں