امریکی و اسرائیلی حملوں میں علی خامنہ آئی کی شہادت حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی سانحہ ہے،محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ خوفناک امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ سپریم لیڈر کی شہادت پر انکے لاکھوں عقیدت مندوں کا امریکی و اسرائیلی حملوں سے بے خوف سڑکوں پر سوگوار احتجاج ثابت کرتا ہے کہ انہیں شکست نہیں دی جا سکتی. حملوں کا مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت کو ختم کر کے نظام میں تبدیلی لانا اور ایران کی دفاعی و جوہری پالیسی کو روکنا ہے تاہم یہ حکمتِ عملی انتہائی خطرناک نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔ ایران کا سیاسی ڈھانچہ محض ایک شخصیت پر منحصر نہیں بلکہ ایک مضبوط مذہبی و عسکری نظام پر قائم ہے۔ ایسی صورت میں پاسدارانِ انقلاب اور سخت گیر حلقے مزید طاقت حاصل کر سکتے ہیں۔ ایرانی قوم تاریخی طور پر بیرونی مداخلت کے خلاف متحد ہو جاتی ہے، اس لیے ایرانی قوم داخلی اختلافات بھلا کر قومی مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گی۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوارسینیٹر محمد عبدالقادر نے مزید کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی فوری طور پر بڑھ سکتی ہے۔ خلیج فارس میں تیل کی ترسیل متاثر ہوگی، عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی. ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے عراق، لبنان اور شام میں ایران کے اتحادی سرگرم ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کو براہِ راست اور بالواسطہ حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے ایک وسیع علاقائی جنگ چھڑنے کا خدشہ ہوگا۔ امریکہ اور اسرائیل کو ریجیم چینج کا ہدف بظاہر آسان دکھائی دے رہا ہے، مگر ایران جیسی نظریاتی ریاست میں یہ عمل طویل اور خونی ثابت ہو سکتا ہے. اس نوعیت کی جنگ پورے خطّے کو عدم استحکام، معاشی بحران اور انسانی المیے کی طرف دھکیل دے گی۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جارحیت سے اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتے. طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری ہی واحد پائیدار راستہ دکھائی دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں