کوئٹہ(این این آئی)امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان و سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دنیا کے امن کے دشمن بن چکے ہیں اور ان کی درندگی عالمی سطح پر بدامنی اور خونریزی کی بدترین مثال ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا باہم مل کر ایران پر حملہ کرنا کھلی دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے ذریعے پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر امریکہ نے مذاکرات کو دھوکے کے طور پر استعمال کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد “بورڈ آف پیس” درحقیقت “بورڈ آف وار” ثابت ہوا، جس کے پردے میں مشرقِ وسطیٰ کو بدامنی اور تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔ امریکہ اور اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ اور شیطانی عزائم کی تکمیل کے لیے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ پچیس برسوں کے دوران امریکی سرپرستی میں کئی مستحکم مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنا کر وہاں خانہ جنگی، انتشار اور فساد کو فروغ دیا گیا۔ مسلم حکمرانوں کو اب اپنی آنکھیں کھولنی ہوں گی اور تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا کہ امریکہ کسی کا مستقل دوست نہیں بلکہ اپنے مفادات کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کی جانب سے اعلانیہ “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کی حمایت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خطے کی جغرافیائی ہیئت تبدیل کرنے اور مسلم دنیا کو کمزور کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ایسے میں پاکستانی حکمرانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور قومی خودمختاری کو ہر بیرونی دباؤ پر مقدم رکھنا چاہیے۔انہوں نے پاکستان اور افغانستان سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنائیں، کیونکہ اس جنگ میں ہمسایہ ممالک کو الجھانے والی قوتیں درحقیقت بیرونی مفادات کی تکمیل چاہتی ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک منظم عالمی چال کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلم دنیا کو مسلسل عدم استحکام میں مبتلا رکھنا ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی فساد، بدامنی اور مسلم ممالک پر ظلم و زیادتی ہو رہی ہے، اس کے پیچھے طاقت کے نشے میں مست سامراجی پالیسیوں کا کردار نمایاں ہے۔ امریکہ دراصل پوری دنیا کو اپنے زیرِ اثر لانا چاہتا ہے اور یہ سب کچھ ظلم، جبر اور طاقت کے بل بوتے پر کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کو انصاف اور امن کی بنیاد پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل پاکستان، چین، ترکی یا کسی اور اسلامی ملک کی باری بھی آسکتی ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ امتِ مسلمہ باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر متحد ہو اور ہر اس ملک کا ساتھ دے جو بیرونی جارحیت کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب خاموشی جرم کے مترادف ہے۔ اگر دنیا نے ظلم کے خلاف متحد ہو کر آواز نہ اٹھائی تو جنگ کی یہ آگ مزید پھیل سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حق و انصاف کی بنیاد پر عالمی نظام کو استوار کیا جائے اور خطے کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔

