پیشہ ور بھکاریوں کی وجہ سے سفید پوش افراد محروم رہ جاتے ہیں، علامہ الیاس قادری

کراچی(این این آ ئی)امیر اہل سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطارقادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص بھوک سے مرنے کے قریب ہو تو اسے کھانا دیناضروری ہے، ایسا شخص مدد کا اصلی حقدار ہے، اسی طرح پلے ہوئے جانوروں کو کھانا دینا بھی ضروری ہے کیونکہ وہ اپنی زبان سے بھوک بیان نہیں کرسکتے۔ عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں ہونے والے مدنی مذاکرے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیشہ ور بھکاری ہمارے ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں، ان کے مانگنے کا انداز مختلف ہوتا ہے، وہ دل کو نرم کرنے والی کہانیاں سناتے ہیں اور لوگوں سے مال بٹورتے ہیں، ان کی وجہ سے اصل ضرورت مند سفید پوش لوگ مدد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ ماہ رمضان میں پیشہ ور بھکاری بڑی تعداد میں شہروں کا رخ کرتے ہیں اور بھیک مانگتے ہیں، عید الفطر پر زکوٰۃ، صدقات اور خیرات لیتے ہیں جبکہ عید الاضحیٰ پر قربانی کا گوشت جمع کرکے اسے بیچ دیتے ہیں، اگر قانون حرکت میں آئے تو پیشہ ور بھکاری بھاگ جائیں اور حق داروں کو حق مل جائے، اصل مستحق سفید پوش ہوتے ہیں جو سڑکوں پر مانگتے نہیں ہیں، ان کی مدد کرنا ضروری ہے، جبکہ پیشہ ور بھکاریوں کو دینا گناہ ہے۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ پیشہ ور بھکاریوں کے پیچھے پوری مافیا ہوتی ہے، اگر کوئی پکڑا بھی جائے تو ان کی ٹیم اسے چھڑوا لیتی ہے، بعض لوگ معذور ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں معذور نہیں ہوتے، مافیا بچوں کو اغوا کرتے ہیں، تشدد کرکے انہیں معذور بناتے ہیں، جلانے یا اعضا کاٹ دینے جیسے جرائم کرتے ہیں اور پھر انہی بچوں سے بھیک منگواتے ہیں، لوگ ان معذور بچوں پر رحم کھاتے ہیں اور پیسہ دیتے ہیں جبکہ وہ سارا پیسہ مافیا کے پاس جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں