کراچی( پریس ریلیز/اسٹاف رپورٹر) کراچی رائٹس آرگنائزیشن کے سربراہ سعید تنولی نے گورنر سندھ نہال ہاشمی کو مبارکباد پیش کی ہے۔ توقع ظاہر کی کہ وہ سندھ بالخصوص کراچی کے لئے وفاق کو بہتر کردار ادا کرنے کے لئے فنڈز کی دستیابی ممکن بنائیں گے۔ اجڑے کراچی کو آباد اور ترقی کے سفر کو تیز تر کریں گے۔ مئیر کراچی کو مجبور کریں گے کہ وہ دعووں اور شیخیاں بھگارنے کے بجائے عملی کام کریں گے۔ کے ایم سی کی زمینیں جوچھن چکی ہیں۔انہیں واپس کرانے میں مئیر کراچی تو دلچسپی نہیں لے رہے کیونکہ ان زمینوں پر علی حسن بروہی اور علی حسن زہری کے قبضے ہیں۔ نہال ہاشمی کراچی کا ہونے کا حق ادا کریں۔ کراچی کو لوٹ کا مال سمجھنے والوں سے نجات اگلے سال ممکن ہوگی۔ بلدیاتی قانون میں ترامیم کی سمری جو پیپلز پارٹی لانا چاہتی ہے اسے کسی صورت منظور نہ کیا جائے۔ دوبارہ کراچی پر قبضہ مئیر نہیں آنے دیں گے۔ کراچی کا ادارہ کے ایم سی کرپشن کا گڑھ ہے۔ جہاں سانس لینے کے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں۔ مرتضی وہاب نے ایڈمنسٹریٹر بننے کے بعد کے ایم سی میں سسٹم راج نافذ کیا۔ مئیر بننے کے بعد کرپشن راج ہے قابلیت تقرری کے لئے پیمانہ نہیں رشوت دو پوسٹ لو۔ علیحدگی پسندوں کو زمینیں مرتضی وہاب کے دور میں فیصل رضوی مافیا نے دی۔اگر مہاجر اپنے شہر کی بات کریں تو گورنر فارغ لیکن سندھ یونیورسٹی جامشورو میں وائس چانسلر سندھو دیش کا ترانہ سنے تو سندھ حکومت کوئی ایکشن نہیں لیتی۔ ہر 14اگست کو سندھو دیش فتنہ کراچی سمیت سندھ بھر میں کھلی نعرے بازی اور چاکنگ کرتا ہے لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔ پہلی مرتبہ فیلڈ مارشل کے ڈر سے 14اگست2025کو نعرے بازی پر سندھ حکومت نے ہلکا پھلکا ایکشن لیا۔ گورنر کے خلاف مظاہرے ہوں یا ایم کیو ایم کے خلاف ردعمل، قوم پرستوں کو متحرک کرکے پیپلز پارٹی اپنی اصلیت دکھاتی ہے۔ نہال ہاشمی سندھو دیش فتنے کے خلاف کاروائی کریں۔ نو ہزار ایکڑ منگھو پیر اور گلشن ضیاء میں زمینیں دینے پر فیصل رضوی اور مئیر سمیت افضل زیدی کے خلاف حساس ادارے اور محب وطن قوتیں ایکشن لیں۔ فیلڈ مارشل کراچی کا دورہ کریں۔ افغانستان جنگ ملک کی بقاء کے لئے ہے۔ فیلڈ مارشل جنگ سے فارغ ہو کر کراچی کے میدان جنگ میں قدم رکھیں جہاں نفرت کی سیاست نے لاوا پکا دیا ہے۔ ہم محب وطن پنجابی، سندھی، بلوچ، مہاجر، پختون، سرائیکی اور ہزارہ وال سمیت تمام قومیتوں کو ملک کا گلدستہ سمجھتے ہیں لیکن ملک دشمن برداشت نہیں۔ بلدیہ کراچی میں نیب کو کردار ادا کرنا چاہئے۔

