اسلام آباد: بشریٰ بی بی کے خلاف ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈز کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
عدالت عالیہ میں ایک متفرق درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپیل کے بجائے بشری بی بی کی سزا معطلی درخواست پر پہلے فیصلہ کیا جائے ۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب کی جانب سے کیس لٹکانے کے مختلف طریقوں کا عدالت نوٹس لے ۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے درخواست کے ذریعے نیب کو کیس لٹکانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بشریٰ بی بی ایک پردہ نشیں خاتون ہیں، ان پر اس کیس میں اعانت کا الزام ہے ۔ بشریٰ بی بی عدت کیس سمیت 13 کیسز میں بری ہو چکیں یا ضمانت پر ہیں ۔
درخواست میں مزید کہا گیاہے کہ بشریٰ بی بی اس کیس میں 14 ماہ سے جیل میں ہیں۔ خاتون ہونے کی بنیاد پر بھی ضمانت ان کا حق ہے۔ 10 ماہ تک نیب کیس کو لٹکاتا رہا اب کہہ رہے ہیں اپیل سن لیں ۔ سزا معطلی درخواست پر نوٹس ہو چکا ہو، طویل عرصے سے زیر التوا بھی ہو تو پہلے اس کا فیصلہ ہونا چاہیے ۔
عدالت میں دائر درخواست میں بتایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستوں پر 15 مئی 2025 کو نیب کو نوٹس ہوا ۔ 6 جون کو نیب نے اسپیشل پراسیکیوٹر کی تعیناتی کے لیے مہلت مانگی ۔ 11 جون بینچ عدم دستیابی پر سماعت نہ ہوئی۔ 26 جون کی سماعت میں نیب پراسیکیوٹر نے تیاری کی مہلت مانگی ۔ 26 ستمبر کو نیب اسپیشل پراسیکیوٹر کا بتایا گیا کہ وہ بیمار ہیں کیس ملتوی ہو گیا ۔
درخواست کے مطابق 16 اکتوبر کو بینچ عدم دستیابی پر سماعت نہ ہو سکی۔ نومبر میں جلد سماعت کی درخواست دائر کی گئی۔ 11 مارچ کو کیس میں بھی نیب اسپیشل پراسیکیوٹر بھی نہیں آئے، پھر نیب نے سزا معطلی قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا دیا ۔ 10 ماہ بعد نیب کی جانب سے اعترض اٹھانا کیس لٹکانے اور بشریٰ بی بی کو طویل عرصہ جیل میں رکھنے کی کوشش ہے ۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر اپیل سے پہلے فیصلہ کیا جائے ۔ بشریٰ بی بی سے جیل میں ملاقات کی مجھے اجازت دی جائے ۔

