کوئٹہ(این این آئی) چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ایک آئینی درخواست کی سماعت کے بعد اہم فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان-افغانستان سرحد پر بادینی بارڈر ٹرمینل اور اوبشتائی تا خان ڈگر مین بادینی بلیک ٹاپ روڈ منصوبے کے لیے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری سے متعلق جاری کردہ اشتہار اور اس کی تصحیح کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ 12 مئی 2025 کو جاری کیا گیا اشتہار اور 18 اکتوبر 2025 کا کوریجنڈم قانونی تقاضوں اور متعلقہ پالیسی کے مطابق نہیں تھے، اس لیے ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ منصوبے کے لیے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری مینوئل فار ڈویلپمنٹ پراجیکٹس 2024 اور متعلقہ وفاقی و صوبائی پالیسی کے مطابق باقاعدہ سلیکشن و اپائنٹمنٹ کمیٹی کے ذریعے کی جائے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ منصوبہ جس کی منظوری ایکنک (ECNEC) سے ہوچکی ہے اور جس کی لاگت کا 75 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 25 فیصد صوبائی حکومت برداشت کرے گی، اس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری کے لیے پلاننگ کمیشن کے قواعد کی پابندی لازمی ہے۔ تاہم متعلقہ حکام نے تقرری کے لیے ایسا اشتہار جاری کیا جو مذکورہ قواعد کے برعکس تھا۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ منصوبے کے لیے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری صرف ایسی کمیٹی کے ذریعے ہوسکتی ہے جس میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، فنانس ڈویڑن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے نمائندے شامل ہوں۔ اس کے برعکس جاری کیے گئے اشتہار میں تقرری کا اختیار صرف صوبائی حکومت کو دیا گیا جو قواعد کی خلاف ورزی ہے۔دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو اس معاملے میں قانونی حق حاصل نہیں اور اس نے پہلے بھی اسی نوعیت کی درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نمٹا چکی ہے۔ مزید کہا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تقرریاں انتظامی معاملات ہیں جن میں عدالتی مداخلت مناسب نہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مینوئل فار ڈویلپمنٹ پراجیکٹس 2024 کے تحت پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری کا واضح طریقہ کار موجود ہے اور اس سے ہٹ کر کوئی اقدام قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالت نے اس اصول کو بھی دہرایا کہ جب قانون کسی کام کا مخصوص طریقہ مقرر کرے تو وہی طریقہ اختیار کرنا لازم ہوتا ہے، بصورت دیگر کارروائی کالعدم تصور ہوگی۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ منصوبے کے لیے جاری کیا گیا اشتہار مقررہ طریقہ کار سے انحراف کرتے ہوئے جاری کیا گیا، اس لیے اسے برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ چنانچہ عدالت نے 12 مئی 2025 کا اشتہار اور 18 اکتوبر 2025 کا کوریجنڈم کالعدم قرار دے کر منسوخ کر دیا۔عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ منصوبے کے لیے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری نئے سرے سے شفاف اور قانونی طریقہ کار کے مطابق کی جائے اور اس مقصد کے لیے باضابطہ سلیکشن کمیٹی تشکیل دی جائے۔سماعت کے دوران عدالت کے سامنے توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت کے عبوری حکم کے باوجود ٹینڈر کے عمل میں پیش رفت کی گئی۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ٹینڈر کے عمل کو بھی ایک طرف رکھتے ہوئے قرار دیا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری مکمل ہونے تک منصوبے سے متعلق مزید کارروائی نہ کی جائے۔عدالت نے آئینی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلے کی نقل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے ذریعے متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت جاری کی، تاہم اس کیس میں اخراجات سے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔

