پنجاب؛ بیوروکریسی اور حکومتی ارکان میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئی

لاہور: شاہ کوٹ نو لکھا چوک میں مینار مسمار کرنے کے معاملے پر ارکان نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اور ڈی سی شاہ کوٹ کو کھری کھری سنا دیں۔

حالیہ لوکل گورنمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں سخت جملوں کے تبادلے کی فوٹیج منظر عام پر آ گئی۔

رانا محمد ارشد کا کہنا تھا کہ مجھے شرم آرہی ہے کے میں چیف وہپ ن لیگ ہوں اور میرا نوٹیفکیشن وزیر اعلیٰ نے کیا ہے، میں شاہ کوٹ نو لکھا چوک کا معاملہ 7 فروری کا اٹھا چکا اور سیکریٹری صاحب کو پتا ہی نہیں، ہم 371 کا ایوان تو افسران کو دیکھتے ہیں کہ جناب کیا فرمائیں گے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم کریں تو کیا کریں چہرہ کس کو دکھائیں، متعلقہ مینار سابقہ اے سی کی منظوری سے دکانداروں نے مل کر بنوایا، ایم سی ایل نے یہ کہ کر توڑ دیا کے ریڑھیاں کھڑی کروانی ہیں۔

رانا محمد ارشد نے کہا کہ اس مینار پر کلمہ لکھا تھا، ہماری حکومت کے خلاف لوگ بے حرمتی کے الزام پر اکٹھے ہوگئے، بیوٹیفیکشن ہو نہیں رہی اور جو چیزیں موجود ہیں ان کو توڑ رہے ہیں۔

امجد علی جاوید کا کہنا تھا کہ آپ اس معاملے کی بات کرتے ہیں ان کو یہ بھی نہیں پتا کون کتنا پیسہ اکٹھا کر رہا ہے۔ ذوالفقار شاہ نے کہا کہ جتنی کرپشن ہے میرا خیال ہے ریٹ لسٹ طے کر لینی چاہیے۔

ڈی سی شاہ کوٹ کے مطابق وہ مینار اس لیے گرایا کیوں کہ وہاں سے ٹرک گزرنے میں مشکل ہوتی تھی۔

چئیرمین کمیٹی پیر اشرف رسول نے ہدایت کی کہ 15 دن میں اس معاملے کی مکمل رپورٹ کمیٹی کو پیش کروائیں، جس پر سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کروا کر رپورٹ کمیٹی میں لے آتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں