کوئٹہ سمیت بلوچستان میں بھی چائلڈ لیبر 100فیصد بڑھی ہے،تعلیم کی سہولیات نہیں ہیں معصوم بچے کم عمری میں محنت و مشقت کے کام میں لگ جاتے ہیں، خان زمان، حاجی بشیر احمد

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر خان زمان چیئرمین حاجی بشیر احمد رند سیکرٹری جنرل قاسم خان کاکڑ،حاجی عبدالعزیز شاہوانی، عابد بٹ محمد عمر جتک، عارف خان نچاری دین محمد محمد حسنی ملک وحید کاسی ملک محمد حسین بنگلزئی ظفر خان رند،حبیب اللہ لانگو، سید منظور شاہ فضل محمد یوسفزئی، انجینئر نجیب اللہ مری اور دیگر رہنماوں نے چائلڈ لیبر ڈے کے عالمی دن کے موقع پراپنا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے کبھی سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا محکمہ لیبر بلوچستان کا چائلڈ لیبر کے حوالے سے پورا شعبہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہے یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے سب سے بڑے شہر کوئٹہ میں چائلڈ لیبر میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔موٹر مکینک ورکشاپس، آٹو انجینئرنگ کی شاپس،تندوروں،برف کے کارخانوں کوئٹہ نواحی علاقوں اور اندرون صوبہ خشت بھٹہ،اور شاہراہوں و محلوں میں کچرہ دانوں سے استعمال کی اشیاء اکٹھی کرکے اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کی معاشی کفالت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں معاشی عدم استحکام کی وجہ سے صوبے میں سستے چائلڈ لیبر کی مانگ برھی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بیروزگاری، معاشی عدم استحکام ہے بلوچستان لیبر فیڈریشن نے صوبے بھر میں اپنے مقامی عہدیداروں و مزدوروں کو اپنے علاقوں میں چائلڈ لیبر کیخلاف ایکشن لینے کی ہدایت کررکھی ہے انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے آئی ایل او کی جانب سے بلوچستان میں چائلڈ لیبر کی روک تھام کیلئے فنڈز بھی فراہم کئے گئے مگر بلوچستان میں قانون سازی ہونے کے باوجود چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے کوئی ٹھوس حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی،یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ چائلڈ لیبر کیخلاف مشترکہ سوچ اپنانی ہوگی اور صوبے کے معصوم بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے ہونگے بلوچستان حکومت اور وزیر اعلی بلوچستان صوبائی مشیر برائے محنت و افراد وقوت چائلڈ لیبر کیخلاف فوری اور حکمت عملی اپنانے کے احکامات جاری کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں