صوبائی حکومت خواتین کو کاروبار کیلئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان

گوادر(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گوادر میں خواتین کے لیے قائم کیے گئے پہلے بازار کا باضابطہ افتتاح کر دیا افتتاحی تقریب میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن اور سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سائرہ عطاء بھی موجود تھیں گوادر میں اس پہلے ویمن بازار کو خواتین کی معاشی خودمختاری کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے جس سے مقامی خواتین کو باعزت روزگار کے مواقع میسر آنا شروع ہو گئے ہیں اور یہ منصوبہ صوبے میں خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دینے کی ایک مؤثر پیش رفت ہے اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ گوادر ویمن بازار میں ابتدائی طور پر 14 دکانیں قائم کی گئی ہیں، جہاں خواتین مختلف کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ویمن بازار کا دورہ کیا اور خواتین دکانداروں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل، تجاویز اور تجربات سے آگاہی حاصل کی اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ایسے منصوبے نہ صرف خواتین کی معاشی خودمختاری کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ مجموعی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر ویمن بازار خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے اور حکومت اس منصوبے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے اور ویمن بازار جیسے اقدامات کا دائرہ کار دیگر علاقوں تک بھی بڑھایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سے مستفید ہو سکیں وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کی معاشی شمولیت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، اسی لیے حکومت عملی اقدامات کے ذریعے خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گوادر میں ویمن بازار جیسے منصوبے سماجی و اقتصادی استحکام کو فروغ دیں گے بلا شبہ خواتین کو کاروباری مواقع فراہم کرنا ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت خواتین کی ترقی اور فلاح کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی تاکہ صوبہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں