بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں کارروائیاں کر تے ہوئے مدارس کو سیل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں مدارس کے خلاف کارروائیاں کر تے ہوئے مدارس کو سیل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، جمعیت علماء اسلام مدارس کے خلاف کاروائی پر حکومت کے سوشل بائیکاٹ کے تحت صوبے کے تمام سرکاری دفاتر، اجلاسوں،تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتی ہے، 2مئی تک حکومت نے کارروائیوں کا سلسلہ بند اور سیل کیے گئے مدارس کو دوبارہ نہ کھولا تو جمعیت علماء آئندہ کے سخت لائحہ عمل کا اعلا ن کریگی۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سینیٹر کامران مرتضی،ارکان صوبائی اسمبلی میر زابد ریکی،میر غلام دستگیر،روی پہوجہ،صوبائی ناظم وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا صلاح الدین،صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا آغا محمود شاہ، صوبائی نائب امیر جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن رفیق،مولانا محمد سرور موسی خیل،مولانا خورشید احمد صو،مولانا حسین احمد شرودی ودیگر بھی موجود تھے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان میں مدارس کے خلاف کاروائیاں کرکے انہیں سیل اور انتظامیہ کو دھمکایا جارہا ہے جس قانون کے تحت کاروائیاں کی جارہی ہیں وہ نہ تو پارلیمنٹ اور نہ ہی صوبائی اسمبلی نے منظور کیا ہے نہ ہی کسی اور صوبے میں اس قسم کی کاروائیاں ہورہی ہیں لیکن شاید وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اپنے آپ کو بہت بہادر شخص سمجھتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ان پر 17حملے ہوئے اور وہ 17سو حملوں کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی 17ہزار حملوں کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دینی مدارس پر ہاتھ ڈالنے والوں نے اپنی قبر کھود لی ہے، دینی مدارس ہماری ریڈ لائن ہیں ہم بلوچستان حکومت کا مدارس کے خلاف قانون مسترد کرتے ہیں اگر 2مئی تک مدارس کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا اور معافی نہیں مانگی گئی تو 2مئی کو صوبائی مجلس شوریٰ کا اجلاس طلب کر کے حکومت اور اس کے اقدامات اور مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے 26ویں ترمیم کی حمایت اس لیے کی تھی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹیز ایکٹ کے تحت ہوگی بعدمیں اس میں ایک اضافہ کیا گیا کہ کوئی مدرسہ اگر محکمہ تعلیم میں رجسٹریشن کروانا چاہے تو کروا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مدارس اور مکاتب فکر 1860کے قانون کے تحت چلنا چاہتے ہیں مگر کچھ لوگ اپنے طور پر چلنا چاہتے تھے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان میں سینیٹرز،ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، صوبائی جماعت کے ذمہ داران کی جانب سے بلوچستان حکومت، وزیراعلیٰ ہاؤس، سرکاری تقریبات، اجلاسوں اور سوشل بائیکاٹ کا اعلان کرتی ہے ہم نے حکومت کے ساتھ جمہوری اور مصلحت پسندانہ رویہ رکھا لیکن حکومت نے ہماری نرمی کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ریڈ لائن پر ہاتھ ڈالا ہے اب ہماری اور حکومت کی کھلی جنگ شروع ہوگئی ہے ہم حکومت کے کہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں ان کے ارادے معلوم تھے،ٹرمپ کی یاری اور دوستی میں ہم پر حملہ آور ہوا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اطلاعات ہیں کہ ایک اور سخت قانون لانے کی تیاری کی جارہی ہے ہماری تحریک سے یہ قوانین حکومت کے دل و دماغ سے نکل جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حکومت کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کا میں نے کہا تھا لیکن اب جب جماعت نے فیصلہ کرلیا ہے تو کوئی رکن اسمبلی حکومت کے ساتھ نظر نہیں آئیگا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کہتی ہے کہ ہم پر مدارس کے خلاف کاروائی کرنے کا دباؤ ہے پورے بلوچستان میں اس وقت کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ملک کے کسی اور صوبے میں ایسی کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مدارس آزاد ماحول میں کام کر رہے ہیں حکومت انہیں اپنے کنٹرول میں لانا چاہتی ہے حکومت نے پاکستان کو تباہ کردیا، جامعات کو منشیات کے اڈے بنا دیا گیا ہے مدارس وہ لوگ پیدا کر رہے ہیں جو ملک کو چلاتے ہیں اب مدارس کو تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر جماعت کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جمعیت علماء اسلام کے ساتھ ملکر حکومت بنائے لیکن ان کے فیصلے وہ خود نہیں کوئی اور کرتا ہے۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں مدارس کو نوٹس جاری کر کے سیل کیا جارہا ہے جب 26ویں ترمیم آئی ہم نے پانچ شرائط کے ہمراہ مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ رکھا جس کے بعد وفاق میں ترمیم آگئی تھی جبکہ وزیراعظم اور طاقتور حلقوں نے صوبوں میں ترمیم لانے کا وعدہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جب آگ لگی ہوئی ہے حکومت کی رٹ اور امن موجود نہیں ہیں اس وقت حکومت کو سب سے زیادہ خرابی مدارس میں نظر آئی اور مدارس کو بلا جواز سیل کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ڈپٹی چیف آف مشن نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے دوران بھی کہا تھا کہ مدارس کے خلاف کاروائیاں انکا معاملہ نہیں ہے اس میں حکومت اور اسٹیبلمشنٹ خواہ ماخواہ تنگ کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں