تحریر:جعفرعلی سید
آزاد کشمیر میں 22 اپریل 2026 کو منعقد ہونے والی زرعی کانفرنس ایک مصدقہ اور باقاعدہ سرکاری سرگرمی تھی، جس کا انعقاد مظفرآباد کے ایئرپورٹ/رن وے ایریا میں کیا گیا۔ بظاہر اس کانفرنس کو حکومت کی جانب سے زرعی ترقی کے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر پیش کیا گیا، جہاں محکمہ زراعت، لائیوسٹاک، آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں نے مشترکہ طور پر شرکت کرتے ہوئے زراعت کی جدید کاری، کسانوں کے مسائل کے حل، پیداوار میں اضافے اور مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے جیسے بڑے اہداف بیان کیے۔ کانفرنس میں جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری بیج، ڈیری فارمنگ اور پولٹری کے نئے طریقوں کو متعارف کروانے کے دعوے بھی کیے گئے، جبکہ نمائشی اسٹالز، ماہرین کی بریفنگز اور تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے ایک بھرپور اور جامع تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔
زرعی کانفرنس محض ایک نمائشی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسے عمل کا حصہ ہونی چاہیے جس میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں کا جامع جائزہ پیش کیا جائے۔ کسی بھی ریاستی کانفرنس کی طرح اس فورم کا پہلا تقاضا یہی بنتا ہے کہ محکمہ زراعت اپنی گزشتہ کارکردگی کی مکمل اور شفاف رپورٹ عوام اور سٹیک ہولڈرز کے سامنے رکھتا۔ اس تناظر میں یہ واضح کیا جانا ضروری تھا کہ اب تک زرعی شعبے کی ترقی کے لیے کون کون سے منصوبے شروع کیے گئے، ان کے لیے سالانہ بنیادوں پر کتنے فنڈز مختص ہوئے، وہ فنڈز کن مدات میں خرچ کیے گئے اور ان منصوبوں کے عملی نتائج کیا برآمد ہوئے۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا ان منصوبوں کے ذریعے واقعی پیداوار میں اضافہ ہوا، کسان کی آمدن بہتر ہوئی یا محض کاغذی کارروائی تک ہی معاملات محدود رہے۔
اسی تسلسل میں دوسرا اہم مرحلہ خود احتسابی کا ہوتا ہے، جہاں محکمہ زراعت کو نہ صرف اپنی کامیابیوں کا ذکر کرنا چاہیے بلکہ ان خامیوں اور کوتاہیوں کی بھی نشاندہی کرنی چاہیے جو گزشتہ برسوں میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔ آیا منصوبہ بندی میں کمزوری تھی، عملدرآمد میں سستی تھی، یا فنڈز کے استعمال میں شفافیت کا فقدان رہا،یہ تمام پہلو کھلے انداز میں زیر بحث آنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا جانا چاہیے کہ ان مسائل کے حل کے لیے کون سے عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، کون سی اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں اور مستقبل میں ایسے نقائص سے بچنے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
جب ماضی کا حساب اور موجودہ کمزوریوں کی نشاندہی مکمل ہو جائے تو پھر کانفرنس کا رخ مستقبل کی جانب ہونا چاہیے، جہاں کسان کو براہ راست ریلیف دینے کی ٹھوس تجاویز سامنے آئیں۔ اس میں زرعی مداخل (بیج، کھاد، زرعی ادویات) کی دستیابی کو آسان بنانا، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا، منڈیوں تک بہتر رسائی دینا اور فصلوں کی مناسب قیمت یقینی بنانا شامل ہونا چاہیے۔ اسی طرح نوجوان نسل کو زراعت کی طرف راغب کرنے کے لیے جدید زرعی ماڈلز، ایگری بزنس کے مواقع اور تربیتی پروگرامز کو بھی واضح انداز میں پیش کرنا ناگزیر ہے تاکہ زراعت کو ایک منافع بخش اور باعزت پیشہ بنایا جا سکے۔
یہ سلسلہ اسی صورت میں مؤثر ہو سکتا ہے جب کانفرنس محض تقاریر تک محدود نہ رہے بلکہ ایک قابلِ عمل روڈ میپ پیش کرے، جس میں اہداف، ٹائم لائنز اور ذمہ داریوں کا تعین واضح ہو۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر کسی بھی زرعی کانفرنس کو حقیقی معنوں میں کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے، ورنہ ایسے اجتماعات محض تصویری سرگرمی بن کر رہ جاتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔
مزید براں، اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی زرعی کانفرنس کی کامیابی کا انحصار صرف پالیسی بیانات پر نہیں بلکہ اس کے بعد ہونے والے عملی اقدامات پر ہوتا ہے۔ 22 اپریل 2026 کی اس کانفرنس کے تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اس میں کیے گئے اعلانات کے لیے کوئی واضح فالو اپ میکنزم ترتیب دیا گیا ہے یا نہیں۔ عموماً ایسے مواقع پر بڑے بڑے دعوے تو سامنے آتے ہیں، مگر ان پر عملدرآمد کے لیے نہ کوئی ٹائم لائن دی جاتی ہے اور نہ ہی ذمہ دار اداروں کا تعین واضح کیا جاتا ہے، جس کے باعث یہ تمام کاوشیں وقتی جوش و خروش تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔
اسی طرح ادارہ جاتی ہم آہنگی کا پہلو بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ محکمہ زراعت، لائیوسٹاک، آبپاشی، جنگلات اور مارکیٹنگ سے متعلق اداروں کے درمیان اگر مؤثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی موجود نہ ہو تو کوئی بھی پالیسی عملی شکل اختیار نہیں کر سکتی۔ کانفرنس کے پلیٹ فارم سے یہ واضح ہونا چاہیے تھا کہ ان تمام اداروں کے درمیان کس نوعیت کا کوآرڈینیشن میکانزم قائم کیا جا رہا ہے تاکہ وسائل کا ضیاع روکا جا سکے اور کسان کو ایک مربوط سہولت فراہم کی جا سکے۔
مزید یہ کہ نجی شعبے اور تعلیمی و تحقیقی اداروں کی شمولیت بھی کسی حد تک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ جدید زراعت اب صرف روایتی طریقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں ریسرچ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹ لنکجز کلیدی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگر کانفرنس میں یونیورسٹیوں، زرعی ماہرین، اور پرائیویٹ سیکٹر کو مؤثر انداز میں شامل نہیں کیا گیا تو یہ ایک بڑی کمی تصور کی جائے گی۔ اس کے برعکس اگر ان تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر عملی اشتراک کی بنیاد رکھی جائے تو یہی کانفرنس حقیقی تبدیلی کا نقط? آغاز بن سکتی ہے۔
سب سے اہم سوال احتساب اور نگرانی کا ہے۔ کیا ان منصوبوں اور پالیسیوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے کوئی آزاد یا مؤثر نظام موجود ہوگا؟ کیا سالانہ بنیادوں پر کارکردگی رپورٹ جاری کی جائے گی؟ اور کیا عوام کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ان دعوؤں اور وعدوں کا جائزہ لے سکیں؟ جب تک ان سوالات کے واضح جوابات نہیں دیے جاتے، اس وقت تک کسی بھی کانفرنس کی افادیت محدود رہتی ہے۔ ایک سنجیدہ اور نتیجہ خیز زرعی پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ اعلان سے لے کر عملدرآمد تک ہر مرحلہ شفاف، قابلِ پیمائش اور عوامی نگرانی کے دائرے میں ہو۔
مزید براں، اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی زرعی کانفرنس کی کامیابی کا انحصار صرف پالیسی بیانات پر نہیں بلکہ اس کے بعد ہونے والے عملی اقدامات پر ہوتا ہے۔ 22 اپریل 2026 کی اس کانفرنس کے تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اس میں کیے گئے اعلانات کے لیے کوئی واضح فالو اپ میکنزم ترتیب دیا گیا ہے یا نہیں۔ عموماً ایسے مواقع پر بڑے بڑے دعوے تو سامنے آتے ہیں، مگر ان پر عملدرآمد کے لیے نہ کوئی ٹائم لائن دی جاتی ہے اور نہ ہی ذمہ دار اداروں کا تعین واضح کیا جاتا ہے، جس کے باعث یہ تمام کاوشیں وقتی جوش و خروش تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔
اسی طرح ادارہ جاتی ہم آہنگی کا پہلو بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ محکمہ زراعت، لائیوسٹاک، آبپاشی، جنگلات اور مارکیٹنگ سے متعلق اداروں کے درمیان اگر مؤثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی موجود نہ ہو تو کوئی بھی پالیسی عملی شکل اختیار نہیں کر سکتی۔ کانفرنس کے پلیٹ فارم سے یہ واضح ہونا چاہیے تھا کہ ان تمام اداروں کے درمیان کس نوعیت کا کوآرڈینیشن میکانزم قائم کیا جا رہا ہے تاکہ وسائل کا ضیاع روکا جا سکے اور کسان کو ایک مربوط سہولت فراہم کی جا سکے۔
مزید یہ کہ نجی شعبے اور تعلیمی و تحقیقی اداروں کی شمولیت بھی کسی حد تک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ جدید زراعت اب صرف روایتی طریقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں ریسرچ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹ لنکجز کلیدی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگر کانفرنس میں یونیورسٹیوں، زرعی ماہرین، اور پرائیویٹ سیکٹر کو مؤثر انداز میں شامل نہیں کیا گیا تو یہ ایک بڑی کمی تصور کی جائے گی۔ اس کے برعکس اگر ان تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر عملی اشتراک کی بنیاد رکھی جائے تو یہی کانفرنس حقیقی تبدیلی کا نقط? آغاز بن سکتی ہے۔
کانفرنس کے حوالے سے عوام میں موجود ابتدائی تاثر کے ساتھ ہی ایک سنجیدہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا یہ کانفرنس واقعی ایک عملی اور نتیجہ خیز پیش رفت کا آغاز ہے یا محض ایک نمائشی سرگرمی جس میں روایتی اعلانات کو نئے انداز میں پیش کیا گیا؟ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کے تناظر میں اس کانفرنس کے مقاصد، نتائج اور حقیقی افادیت کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں جب اس کانفرنس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی اور جامع سرگرمی دکھائی دیتی ہے، مگر عملی سطح پر اس کے اثرات کا اندازہ زمینی حقائق سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر گزشتہ برسوں میں زرعی شعبے کے لیے مختص کیے جانے والے فنڈز، منصوبہ بندی اور اعلانات کو معیار بنایا جائے تو یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ آخر ان تمام کاوشوں کے ثمرات کہاں نظر آتے ہیں؟ کیا واقعی مقامی پیداوار میں وہ اضافہ ہوا جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے، یا یہ سب کچھ صرف رپورٹوں اور تقاریر تک محدود رہا؟
حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی مقامی منڈیوں کا انحصار آج بھی بڑی حد تک بیرونی سپلائی پر ہے۔ براڑ کوٹ اور کوہالہ کے راستوں سے روزانہ کی بنیاد پر سبزیاں، پھل، دودھ اور گوشت کی ترسیل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی زرعی پیداوار نہ تو طلب کو پورا کر پا رہی ہے اور نہ ہی اس میں وہ استحکام پیدا ہو سکا ہے جس کا دعویٰ حکومتی سطح پر کیا جاتا ہے۔ اگر زراعت واقعی ترقی کر رہی ہوتی تو کم از کم بنیادی غذائی اشیاء کے لیے اس حد تک بیرونی انحصار دیکھنے کو نہ ملتا۔
یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ یا تو وسائل کے استعمال میں کہیں نہ کہیں سنگین خامیاں موجود ہیں، یا پھر پالیسی سازی اور عملدرآمد کے درمیان ایک واضح خلا پایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ تاثر بھی تقویت پکڑتا ہے کہ ایسی کانفرنسیں اکثر اوقات محض تشہیر، نمود و نمائش اور رسمی سرگرمیوں تک محدود رہتی ہیں، جہاں عملی نتائج کے بجائے بیانیے کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اپنے اپنے“نظریہ? ضرورت”کے تحت ستائش اور واہ واہ کا ماحول تو پیدا کر لیا جاتا ہے، مگر زمینی حقیقت اس سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔
لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جب تک ان کانفرنسوں کے ساتھ ایک سخت، قابلِ پیمائش اور جوابدہ نظام منسلک نہیں کیا جاتا، اس وقت تک یہ سرگرمیاں زرعی شعبے میں حقیقی تبدیلی لانے کے بجائے محض ایک وقتی تاثر پیدا کرنے کا ذریعہ ہی بنی رہیں گی۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان موجود اس خلیج کو ختم کیا جائے، بصورت دیگر ہر نئی کانفرنس پچھلی کانفرنسوں کی طرح صرف ایک اور اعلان بن کر رہ جائے گی جس کا عملی فائدہ کسان یا عام آدمی تک نہیں پہنچ پاتا۔
اگر مذکورہ زرعی کانفرنس اور اس سے متعلق تحریر کا غیر جانبدارانہ اور تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے، اور وہ ہے اس پورے بیانیے میں تعریف و توصیف کے غیر معمولی رجحان اور افسران کی خوشامد پر مبنی طرزِ اظہار۔ بظاہر ایک پالیسی اور ترقیاتی موضوع کو زیر بحث لانے کے بجائے تحریر کا بڑا حصہ اس بات پر صرف کیا گیا ہے کہ کس نے کتنی محنت کی، کس نے کتنا وقت دیا، اور کس شخصیت کا کردار زیادہ نمایاں تھا۔ اس اندازِ بیان سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ اصل مقصد کانفرنس کے نتائج یا زرعی شعبے کی بہتری نہیں بلکہ ایک مخصوص بیانیے کو تقویت دینا ہے۔
اسی سلسلے میں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے اس کانفرنس کو محض ایک رسمی کارکردگی ظاہر کرنے کے بجائے خوشامدانہ اندازِ فکر کے ذریعے ایک“کامیابی کی کہانی”کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے مختلف طریقہ ہائے کار اختیار کیے گئے—جن میں طویل تعریفی جملے، غیر ضروری شخصی حوالہ جات، جذباتی نعرہ بازی اور ادارہ جاتی خامیوں پر مکمل خاموشی شامل ہے۔ مجموعی طور پر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کانفرنس کی اصل روح یعنی پالیسی، اصلاحات اور نتائج پر بات کرنے کے بجائے پورا زور اس بات پر دیا گیا کہ متعلقہ افسران اور ذمہ داران کو ایک مثبت اور غیر معمولی انداز میں پیش کیا جائے۔
یہ رجحان کسی بھی سرکاری یا ترقیاتی عمل کے لیے نیا نہیں، لیکن جب اسے زرعی جیسے بنیادی اور حساس شعبے کے ساتھ جوڑا جائے تو اس کے اثرات زیادہ سنگین ہو جاتے ہیں۔ زرعی پالیسیوں کا مقصد زمینی حقائق کو بہتر بنانا، کسان کو سہولت دینا اور پیداوار میں اضافہ کرنا ہوتا ہے، نہ کہ انتظامی سطح پر تعریفوں کے پل باندھنا۔ اگر ایک کانفرنس کے بعد بھی وہی سوالات برقرار رہیں کہ مقامی پیداوار کہاں ہے، مارکیٹ کا انحصار باہر سے آنے والی اشیاء پر کیوں ہے، اور فنڈز کے استعمال کے واضح نتائج کیا ہیں، تو پھر اس طرح کی تعریفی تحریریں ایک“متبادل حقیقت”کے طور پر سامنے آتی ہیں، جس کا زمینی صورتحال سے تعلق کمزور رہتا ہے۔
مزید یہ کہ جب کسی پالیسی یا منصوبے کے تجزیے میں“خوشامد”ایک نمایاں عنصر بن جائے تو شفافیت اور احتساب کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ افسران کی کارکردگی کو سراہنا اپنی جگہ ایک مثبت پہلو ہے، لیکن جب یہ سارا بیانیہ تنقیدی جائزے، اعداد و شمار اور حقیقی نتائج کے بغیر صرف تعریفی جملوں پر مشتمل ہو جائے تو پھر اس کی ساکھ سوالات کی زد میں آ جاتی ہے۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب زرعی شعبہ ابھی تک خود کفالت کی بجائے بیرونی انحصار کا شکار نظر آتا ہے، اس قسم کی مبالغہ آمیز تحریریں مزید عدم توازن پیدا کرتی ہیں۔
نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ زرعی کانفرنس کے حوالے سے جو بیانیہ سامنے آیا ہے، اس میں ایک طرف ترقی اور اصلاحات کے دعوے ہیں، جبکہ دوسری طرف عملی حقائق ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس تضاد کو چھپانے یا نرم کرنے کے لیے بعض حلقوں نے تعریف و توصیف اور افسران کی خوشنودی پر مبنی انداز اختیار کیا، جس سے اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ تجزیہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ کانفرنس کو خوشامد کے بجائے نتائج، اثرات اور زمینی تبدیلی کے پیمانے پر پرکھا جائے، تاکہ حقیقت اور بیانیے کے درمیان موجود فرق واضح ہو سکے۔
اور جب تک سبزیاں،فروٹ،دودھ گوشت بیرون ریاست سے منڈیوں تک پہنچتا رہے گا،آازدکشمیرکے زرعی شعبہ سے متعلق پُرفریب دعوے کسی طورنیک نامی کا ذریعہ نہیں بنیں گے۔

