گوادر(رپورٹر) پسنی ڈسٹرکٹ کونسل گوادر کے چیئرمین شئے مختار* نے یونین کونسل کلمت کا تفصیلی دورہ کیا، جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور عوامی مسائل سنے۔ دورے کے دوران ان کے ہمراہ سٹی چیئرمین پسنی میر نور احمد کلمتی ،آر ای ڈی وقاص عظیم، میر نور خان کلمتی اور سوشل ورکر میر سخیداد کلمتی بھی موجود تھے۔
دورے کا ایک اہم مقصد سابق صوبائی وزیر اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میر حمل کلمتی کی کاوشوں سے شروع ہونے والے کلمت سولر پارک اسکیم 2022-23 کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔
واضح رہے کہ میر حمل کلمتی نے کوئٹہ میں وزیرِ انرجی، ڈی جی انرجی اور انرجی سیکریٹری کے ساتھ ملاقاتوں کے ذریعے اس منصوبے کو یقینی بنایا تھا۔ محکمہ انرجی کے نمائندہ انجینئر چاکر بلوچ نے چیئرمین شئے مختار کی سربراہی میں تکنیکی امور کا معائنہ کیا اور سولر پارک کے ذریعے مقامی آبادی کو گھر بہ گھر بجلی کی فراہمی کے عمل پر بریفنگ دی۔
چیئرمین شئے مختار نے اپنے دورے کے دوران یوسی کلمت میں واقع بنیادی سہولیات کے مراکز کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے کلمت کے ہیلتھ سینٹر (بی ایچ یو)، کلمت جنژ، اسپیاک، اور کنر بازار کے اسکولوں سمیت کلمت بوائز ہائی اسکول کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسکولوں اور طبی مراکز میں درپیش مشکلات کا مشاہدہ کیا اور متعلقہ حکام کو بہتری کے لیے ہدایات جاری کیں۔
دورے کے اختتام پر کلمت کی معتبر شخصیت لیاقت بلوچ کی جانب سے چیئرمین کے اعزاز میں ان کی رہائش گاہ پر ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر علاقہ معززین نے چیئرمین سے ملاقات کی اور اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔
اہلیانِ علاقہ نے چیئرمین کو بتایا کہ کلمت کو دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ سب سے سنگین آبی بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رمبڑو ڈیم کے اسپلو (Spillway) کی خرابی کے باعث ڈیم پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، جس کی وجہ سے کاشتکاری اور گھریلو استعمال کے لیے پانی کی شدید قلت ہے۔ معززین نے چیئرمین گوادر سے پرزور مطالبہ کیا کہ رمبڑو ڈیم کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ علاقے کے لوگوں کو پانی کی بنیادی ضرورت میسر آ سکے۔
چیئرمین شئے مختار نے عوامی مسائل کو غور سے سنا اور انہیں حل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
بی این پی کے سنٹرل کمیٹی کے ممبر کہدہ علی نے ڈسٹرکٹ چیئرمین گوادر شئے مختار کے دورہ کلمت کے موقع پر انکے اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا۔

