وفاقی محتسب کے حکم پر درخواست گزار شازیہ احمد کو اسٹیٹ لائف انشورنس کی جانب سے لگایا گیا 450000 کا جرمانہ ختم کروا دیا

کوئٹہ(این این آئی)وفاقی محتسب کے حکم پر درخواست گزار شازیہ احمد کو اسٹیٹ لائف انشورنس کی جانب سے لگایا گیا 450000 کا جرمانہ ختم کروا دیا گیا۔شکایت گزار شازیہ احمد نے بتایا کہ انہوں نے سال 2015 میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان سے لائف انشورنس پالیسی حاصل کی۔دسمبر 2020 میں اُنہوں نے بطور پریمیم 153,484 روپے کا چیک جمع کروایا جو بعد ازاں بینک سے باؤنس ہوگیا۔اُن کا مؤقف تھا کہ انہیں چیک کے باؤنس ہونے یا پریمیم کی عدم ادائیگی کے بارے میں مناسب طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ دفتر کے متعدد دوروں اور ادائیگیاں کرنے کے باوجود بعد میں اُنہیں بتایا گیا کہ 2019 کا پریمیم بدستور واجب الادا ہے اور اس پر 450000 روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔ 2024 کا پریمیم بھی وصول نہیں کیا گیا اور پالیسی منسوخی کی کارروائی شروع کر دی گئی۔ بار بار دفتر کے دوروں اور درخواستوں کے باوجود معاملہ حل نہ ہو سکا۔لہذا، مجبور ہو کر انہوں نے وفاقی محتسب کوئٹہ کے دفتر میں درخواست دائر کی۔درخواست موصول ہوتے ہی وفاقی محتسب کوئٹہ نے بروقت انکوائری کا آغاز کیا اور متعلقہ محکمے کو طلب کر کے کیس کی فوری سماعت شروع کر دی۔سماعت کے دوران متعلقہ محکمہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔لہذا، وفاقی محتسب نے احکامات جاری کیے کہ درخواست گزار پر عائد جرمانے ختم کیے جائے۔احکامات موصول ہوتے ہی متعلقہ محکمے نے درخواست گزار پر عائد 450000 روپے کے عائد جرمانے ختم کر دیے۔اس بروقت اور منصفانہ فیصلے پر درخواست گزار نے وفاقی محتسب کا شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں