تربت(این این آئی)مکران ڈویژن میں گرمی کی شدت میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث تربت سمیت ضلع کیچ کے مختلف علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافے نے نہ صرف معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جس کے باعث بازاروں میں رش میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے اور شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔ شدید گرمی کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں جبکہ سڑکیں دن کے اوقات میں سنسان دکھائی دینے لگی ہیں۔ماہرین صحت نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ وہ دن کے گرم ترین اوقات میں باہر نکلنے سے حتی الامکان اجتناب کریں، پانی کا زیادہ استعمال یقینی بنائیں اور خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھیں۔ طبی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ہیٹ اسٹروک کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ بعض علاقوں سے طلبہ اور شہریوں کے بیہوش ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔شدید گرمی کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے لگی ہیں۔ والدین اور عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات یکم مئی سے شروع کی جائیں تاکہ طلبہ کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ والدین کا کہنا ہے کہ موجودہ موسمی حالات میں بچوں کا اسکول جانا ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔دوسری جانب شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی لائی جائے تاکہ عوام کو اس شدید گرمی میں کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش کے باعث نہ صرف گھروں میں مشکلات بڑھ رہی ہیں بلکہ پانی کی دستیابی بھی متاثر ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ مکران کے بیشتر علاقوں میں ہر سال گرمی کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، تاہم رواں سال گرمی کی شدت نے قبل از وقت ہی لوگوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے اور صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

