سوات (این این آئی)سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین محمود خان نے وفاقی و صوبائی بجٹ 2025-26 کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ بجٹ میں سابق فاٹا اور پاٹا، خصوصاً مالاکنڈ ڈویژن جیسے پسماندہ اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں پر ٹیکس کا نفاذ انتہائی ظالمانہ اقدام ہے، جس سے خطے کے غریب عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ علاقے دہائیوں سے ریاستی توجہ سے محروم اور مسلسل بدامنی کا شکار رہے ہیں، ایسے میں ان پر ٹیکس عائد کرنا معاشی ناانصافی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وفاقی حکومت نے ان علاقوں کو ٹیکس فری زون کا درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا، جسے اب یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ نے صوبائی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک نمائشی، غیر سنجیدہ اور زمینی حقائق سے کٹا ہوا بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مہنگائی، بیروزگاری، عوامی فلاح اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی جیسے اہم مسائل پر کوئی واضح منصوبہ بندی شامل نہیں۔محمود خان نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت سابق فاٹا و پاٹا پر ٹیکس کے فیصلے کو فوری واپس لے اور صوبائی حکومت بجٹ میں سنجیدہ اصلاحات کے ذریعے عوام کو عملی ریلیف دے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متاثرہ علاقوں کے عوام کے ساتھ یہ ناانصافی جاری رہی تو احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

