بجٹ میں جعلی رسیدوں کے ذریعے فوری رقومات حاصل کرکے بندر بانٹ کی گئی، امان اللہ کنرانی

کوئٹہ (این این آئی)سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بْگٹی کے اس دعوے کو سو فیصد دْرست و حقائق پر مبنی قرار دیا ہے کہ بلوچستان کے مالی سال 2024-25 کا صوبائی اسمبلی سے فنانس ایکٹ کے تحت بجٹ کو 90 فیصد سے زائد کامیابی سے استعمال یا ہڑپ کرلیا گیا ہے کیونکہ جون 2024 میں نئے مالی سال کیلئے جو بجٹ منظور کیا جس پر جولائی سے اکتوبر 2024 ترقیاتی کام ٹینڈر ہوئے مروجہ قواعد کے تحت کام شروع ہوئے ٹھیکیداروں نے بڑی یا کسی حد تک پیسے وصول کئے اور پھر انہی سکیمات کو جو PSDP 2024-25 کی کتاب میں جن محکموں بالخصوص بلڈنگ و روڈ سیکٹر سے واپس لیکر زیادہ تر سولروں کی خریداری پر دوہرے سکیم کے نام پر جعلی رسیدوں کے ذریعے فوری رقومات حاصل کرکے بندر بانٹ کی گئی جن کا زمین پر وجود ہی نہیں حالانکہ آئین و قانون کی نظر میں اسمبلی و پارلیمنٹ بالاتر ہے اس کے فیصلوں کو بدلنا ان کا اپنا استحقاق ہے کابینہ قطعی طور پر صوبائی اسمبلی کے فیصلوں مسخ کرنے کا مجاز نہیں یوں سکہ شاہی کے توسط سے زمین پر کام کم رقومات جیبوں میں منتقل ہوکر 90 فیصد کا دعوی سچ ہے جب ایک سال میں ایک سکیم کو دو محکمے پیسے حاصل کریں گے تو دراصل یہ دعوی 180% بنتا ہے قصر نفسی سے کام لیکر وزیراعلی صاحب نے 50 فیصد کم بتایا ہے سولر پلیٹ کا کاروبار اب ڈانبر پر حاوی ھوکر کوئلے سے برقی پیداوار کا دور شروع ھوگیا ہے اور اسی برق رفتاری سے پیسے خرچ و وصول و ہڑپ ھورہے ہیں کیونکہ بابر بہ عیش کوش عالم دوبارہ نیست۔

اپنا تبصرہ بھیجیں