مارخور کا تحفظ ہماری قدرتی میراث اور ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے مترادف ہے،سرفراز بگٹی

کوئٹہ(این این آئی) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ مارخور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر پاکستان کے قومی جانور اور دنیا کی معروف پہاڑی انواع میں شمار ہونے والے مارخور کی ماحولیاتی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے آج کا دن بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد کے تحت ہر سال 24 مئی کو عالمی یومِ مارخور کے طور پر منایا جاتا ہے۔اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے اعلان کے بعد عالمی یومِ مارخور پہلی بار سال 2024 میں منایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مارخور (Capra falconeri) ایک اہم ماحولیاتی نوع ہے جو وسطی اور جنوبی ایشیا کے پہاڑی علاقوں بشمول پاکستان میں پائی جاتی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو اس بات پر فخر ہے کہ یہاں نایاب جنگلی حیات کے اہم مساکن موجود ہیں، اور صوبائی حکومت خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ اور بقا کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارخور کی بقا کو درپیش بڑے خطرات میں قدرتی مساکن کیتباہی، غیر قانونی شکار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مارخور اور اس کے قدرتی ماحول کا تحفظ نہ صرف ایک ماحولیاتی ذمہ داری ہے بلکہ یہ علاقائی سطح پر تحفظِ ماحول کے اقدامات کو مضبوط بنانے، پائیدار سیاحت کے فروغ اور مقامی آبادی کی معاشی ترقی کے لیے بھی اہم موقع فراہم کرتا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے جنگلی حیات کے ماہرین، تحفظِ ماحول کی تنظیموں، مقامی آبادی اور اقوام متحدہ کی جانب سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور نایاب جنگلی حیات کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ مارخور کا تحفظ دراصل ہماری قدرتی میراث اور ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے مترادف ہے۔ جنگلی حیات اور انسانیت کے محفوظ اور پائیدار مستقبل کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں