تربت(رپورٹر)نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے آئی جی ایف سی ساؤتھ جناب بلال سرفراز خان سے ملاقات کے دوران بارڈر کاروبار کی بندش سمیت دیگر ایشوز پر بات کی۔ ملاقات میں عمائدینِ شہر، سیاسی جماعتوں کے نمائندگان، انجمن تاجران، سول سوسائٹی اور بارڈر کمیٹی کے اراکین پر مشتمل وفد شریک تھا۔ نیشنل پارٹی کے وفد کی قیادت ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کی جبکہ وفد میں ریٹائرڈ جسٹس شکیل بلوچ، میر حمل بلوچ، سابق صوبائی وزیر لالا رشید، ڈاکٹر نور بلوچ، ضلعی صدر یونس جاوید، صوبائی میڈیا سیکرٹری حفیظ علی بخش، ضلعی نائب صدر شوکت دشتی، ضلعی جنرل سکریٹری سرتاج گچکی ،مشکور انور، محمد جان دشتی، بجار بلوچ اور جمال شکیل شامل تھے۔ ملاقات کے دوران ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ایرانی بارڈر کی بندش سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مکران اور بلوچستان کے دیگر سرحدی علاقوں کی معیشت کا بڑا انحصار سرحدی تجارت پر ہے، تاہم بارڈر کی طویل بندش کے باعث ہزاروں خاندان بے روزگاری، غربت اور شدید معاشی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بارڈر کو ایک واضح، منظم اور عوام دوست طریقہ کار کے تحت کھولا جائے تاکہ قانونی تجارت کو فروغ ملے اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع بحال ہو سکیں۔ انہوں نے مکران تا کراچی روٹ پر قائم چیک پوسٹوں پر مسافروں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ، مریض، خواتین، تاجر اور عام شہری غیر ضروری پوچھ گچھ، طویل انتظار اور نامناسب رویوں کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ سیکیورٹی کے تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کے ساتھ عزت، احترام اور وقار پر مبنی رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
شعبہ نشر و اشاعت
*نیشنل پارٹی کیچ

