کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ امریکی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے دوران امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کاروائیوں سے متعلق اختیارات کو محدود کرنے کے حق میں قرارداد منظور کر لی ہے 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور ہونے والی اس قرارداد میں چار ریپبلکن اراکین نے بھی اپنی جماعتی قیادت اور صدر ٹرمپ کے مؤقف کے خلاف ووٹ دیا، جو ٹرمپ انتظامیہ کیلئے ایک نمایاں سیاسی دھچکا ہے یہ ووٹنگ صرف ایران جنگ کے معاملے تک محدود نہیں بلکہ اس نے امریکی سیاسی نظام میں جنگ اور امن کے فیصلوں سے متعلق آئینی بحث کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے کسی بھی طویل فوجی مہم کیلئے کانگریس کی منظوری ضروری ہے اور صدر کو یکطرفہ طور پر جنگ جاری رکھنے کا اختیار نہیں ہونا ہوگا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادرنے کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ کشیدگی، بڑھتی ہوئی جنگی لاگت اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی عوامی سطح پر تشویش پیدا کی ہے اسی پس منظر میں بعض ریپبلکن ارکان نے بھی انتظامیہ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں اس صورتحال سے واضح ہوا ہے کہ ایران نے امریکہ کے خلاف جنگ جیت لی ہے. ٹرمپ کی صورتحال سیاسی اور سفارتی دباؤ، داخلی اختلافات اور جنگی پالیسی پر بڑھتی ہوئی تنقید کی عکاسی کرتی ہے۔ ایوانِ نمائندگان کی یہ قرارداد ٹرمپ کی ایران پالیسی کے خلاف اب تک کا سب سے واضح سیاسی ردِعمل ہے اگر سینیٹ میں بھی اسی نوعیت کی پیش رفت ہوتی ہے تو وائٹ ہاؤس پر جنگی حکمت عملی تبدیل کرنے کا دباؤ مزید بڑھ جائے گا مجموعی طور پر یہ صورتحال امریکی جمہوری نظام میں اختیارات کے توازن اور خارجہ پالیسی پر کانگریس کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

