کوئٹہ (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کوئٹہ سٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی روزی محمدخلجی،رابطہ سیکرٹری نصرالدین خلجی،فنانس سیکرٹری صمد خان خلجی نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلز پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے صوبائی وزراء اور عہدیداران عوام کی خدمت کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کے حصول میں لگے ہوئے ہیں عوام کے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔یہ بات انہوں نے سابق امیدوار حلقہ پی بی 41حسان الدین خلجی،پارالدین سمیت دیگر کے ہمراہ اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم علاقائی اتحاد کے پلیٹ فارم سے اپنے حلقے کے عوام کی خدمت کر رہے تھے 2018ء میں باقاعدہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جس کے بعد علاقے میں پاکستان پیپلز پارٹی کو فعال اور منظم بنانے کیلئے دن رات جدوجہد کی۔انہوں نے کہا کہ 2024ء کے انتخابات میں علاقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو سب سے زیادہ ووٹ پڑے اور بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو بنے ہوئے تقریبا ً اڑھائی سال پورے ہونے والے ہیں لیکن آج تک حلقے میں کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں ہورہا اور عوام کو بے یارومددگار چھوڑدیاگیا جس سے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام کے مسائل سے پارٹی کے عہدیداروں،صوبائی وزراء اوردیگر حکام کو باربار آگاہ کرنے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی پارٹی کے وزراء ہمیں ملاقات کا ٹائم دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت پاکستان پیپلزپارٹی مختلف گروپس میں تقسیم ہے جس کی وجہ سے عوام کے کام نہیں ہورہے ہیں صوبائی وزراء اور پارٹی عہدیداران اپنے ذاتی کاموں میں لگے ہوئے ہیں انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک ہم نے پاکستان پیپلزپارٹی یا صوبائی وزراء سے اپنی ذاتی کیلئے کچھ نہیں مانگا ہے صرف اور صرف حلقے کے عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کہا لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی جسکی وجہ سے ہم آج اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلزپارٹی سے باقاعدہ طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ایک سوا ل کے جواب میں روزی محمد خلجی نے کہا کہ ابھی تک ہم نے کسی دوسری سیاسی جماعت میں جانے کا فیصلہ نہیں کیاہے جلد ہی اپنے ساتھیوں اورعلاقے کے عوام کا اجلاس بلاکر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی عہدیداروں اور صوبائی وزراء نے حلقے کے مسائل حل کئے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں رہنے کا سوچ سکتے ہیں۔

