کوئٹہ(این این آئی)امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے بلوچستان کی بعض نوجوان بیٹیاں اور بہنیں مایوسی، محرومی اور مختلف سماجی مسائل کے باعث پہاڑوں کا رخ کر رہی ہیں، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ یہ محض ایک فرد یا خاندان کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اس کے بنیادی اسباب کو دور کرنے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ روزانہ والدین میرے پاس آتے ہیں اور دکھ بھرے لہجے میں کہتے ہیں میری بیٹی پہاڑ پر چلی گئی، یہ الفاظ ہر باشعور انسان کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے نوجوان بیٹیوں بہنوں اورماوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کی منزل پہاڑ نہیں بلکہ علم، شعور،عزت،کردار،وقار، ترقی اور اپنے خاندان و معاشرے کی تعمیر ہے۔انہوں نے اپیل کی کہ اپنے روشن مستقبل کو محفوظ بنائیں، تعلیم حاصل کریں، اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں اور ایسے راستوں سے دور رہیں جو مزید دکھ،محرومی،بدنامی اور تباہی کا باعث بنیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی خواتین کے زیر اہتمام سٹی میرج ہال کوئٹہ میں “بیدار خواتین، مضبوط بلوچستان” کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے جماعت اسلامی ویمن ونگ پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرہ طارق،سابق رکن صوبائی اسمبلی ثمینہ سعید،جماعت اسلامی بلوچستان کی ناظمہ شازیہ عبداللہ اور فرزانہ اعجازودیگر نے بھی خطاب کیا۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ اگر ہماری نوجوان نسل ایسے راستوں کا انتخاب کر رہی ہے تو محض افسوس کرنے کے بجائے اس کے حقیقی اسباب کو انصاف،حکمت اور سنجیدگی کے ساتھ سمجھ کر ان کا پائیدار حل تلاش کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو باعزت روزگار،معیاری تعلیم، انصاف اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ منظم، بیدار،باوقاراور بااختیار خواتین ہی مضبوط بلوچستان کی بنیاد ہیں۔بلوچستان کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ اور دیگر بنیادی حقوق کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی بلوچستان کے دور دراز علاقوں کی خواتین بہتر علاج کی سہولیات نہ ہونے کے باعث دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جو حکومتی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کی خواتین کو معیاری تعلیم، صحت،باعزت روزگار، آئینی و قانونی حقوق اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کر رہی ہے۔انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے جمہوری، آئینی اور پرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کریں اور جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں امن، خوشحالی اور ترقی کا راستہ تعلیم، شعور، انصاف اور جمہوری عمل سے ہو کر گزرتا ہے۔ تشدد اور ہتھیار کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ظلم،جبر، بدعنوانی،ناانصافی اور لاقانونیت کا مقابلہ بھی آئینی، جمہوری اور عوامی جدوجہد کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام، خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ، تعلیم کے فروغ، امن کے قیام اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ “جب بلوچستان کی خواتین بیدار، منظم اور متحد ہوں گی تو نہ صرف خاندان مضبوط ہوں گے بلکہ پورا بلوچستان امن، ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔

