بجٹ کی تیاری سے قبل تاجروں و دیگر شعبوں کے نمائندوں سے مشاورت کی گئی، کسانوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا، خالد حسین باٹھ

کوئٹہ (این این آئی) کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے حکومت پر کسانوں کو مسلسل نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کی تیاری سے قبل تاجروں اور دیگر شعبوں کے نمائندوں سے مشاورت کی گئی، تاہم کسانوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد حسین باٹھ نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے حکومت نے کسانوں سے ان کے مسائل کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ناقص بیج کی فراہمی سے کسانوں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے شعبے کے لیے صرف 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو انتہائی ناکافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دو سال تک کسان حکومت سے گندم خریدنے کی اپیل کرتے رہے مگر کسی نے ان کی بات نہیں سنی، جبکہ اب کسانوں کے گھروں پر یہ کہہ کر چھاپے مارے جا رہے ہیں کہ انہوں نے گندم ذخیرہ کر رکھی ہے۔خالد حسین باٹھ نے اعلان کیا کہ محرم الحرام کے بعد کسانوں کے گھروں پر چھاپوں اور ایف آئی آرز کے خلاف ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کا واحد حل زراعت کی ترقی میں مضمر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے جس کے باعث زرعی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔چیئرمین کوئٹہ کسان اتحاد نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان نے بھرپور ثالثی کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ایک ملین مارچ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں