(ویب ڈیسک) ملک بھر میں سکول جانے والے بچوں کی سٹیشنری کے درجنوں آئٹمز پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا جس سے والدین کی پریشانیوں میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں یکم جولائی سے نئے مالی سال 2026-27 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے جس کے ساتھ ہی حکومت کے نئے ٹیکس اقدامات نافذ العمل ہو گئے ہیں۔
نئے فنانس بل کے تحت جہاں کئی شعبے متاثر ہوئے ہیں، وہاں سکول جانے والے بچوں کے استعمال کی درجنوں سٹیشنری اشیاء پر بھی 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے جس نے تنخواہ دار اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین کی پریشانیوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے بعد جن اشیاء پر 10 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوا ہے، ان میں ں پنسل، قلم، جیومیٹری بکس، شارپنر، مشقی کتابیں (Exercise Books) ،سکول گلیو، رائٹنگ پیڈز اور کلر پنسلیں شامل ہیں۔
سٹیشنری کی درجنوں اشیاء پر بیک وقت 10 فیصد ٹیکس لگنے سے کاپیوں، کتابوں اور سکول بیگز کی قیمتیں یکدم بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
نئے تعلیمی سال کے آغاز سے پہلے ہی پنسل،ربڑ اور شارپنر جیسی بنیادی چیزوں پر بھی ٹیکس لگا کر غریب سے تعلیم کا حق چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ،سٹیشنری پر ٹیکس عائد ہونے سے مارکیٹ میں ان اشیاء کی ریٹیل قیمتوں میں فوری طور پر 10 سے 15 فیصد تک کا اضافہ دیکھا جائے گا، جو براہِ راست عام شہری کی جیب پر اثر انداز ہوگا۔

