کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے تیل کے نرخ کم کرنے اور قیمتیں طے کرنے کے طریقہ کار کے خلاف آئینی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ہائی کورٹ میں تیل کے نرخ کم کرنے اور قیمتیں طے کرنے کے طریقہ کار کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد آئینی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی اور آئینی درخواست ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کردی۔
عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ پٹرولیم قیمتوں اور ٹیکسوں کا تعین حکومت اور پارلیمنٹ کا اختیار ہے، عدالت مقننہ اور ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی، معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کو ترتیب دینا حکومت کا کام ہے، حکومتی کام میں کیسے مداخلت کرسکتے ہیں، بنیادی حقوق کا اختیار، صرف غیر قانونی یا من مانے حکومتی اقدامات پر استعمال ہو سکتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا، صرف پٹرولیم قیمتوں پر عدم اطمینان آئینی درخواست کا جواز نہیں بنتا۔
دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا موجودہ طریقہ کار غیر قانونی قرار دیا جائے، عالمی مارکیٹ میں کروڑ آئل کی قیمتوں میں بڑی حد تک کمی ہوئی ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے، پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں کمی اور قیمتیں فوری کم کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست گزار نے کہا تھا کہ پٹرولیم قیمتوں کے تعین کا شفاف فارمولا نہیں ہے، پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا ہے، عالمی مارکیٹ سے ملک میں سپلائی تک تیل پر لیوی، ٹیکسز اور دیگر اخراجات عوام کے سامنے لانے کا حکم دیا جائے۔

