کیا انسان بدل رہا ہے؟

خورشید ندیم
آدمی بدلتا ہے‘ عمر اور تجربے کے ساتھ۔ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کے ساتھ دنیا بھی بدل گئی ہے۔ وہ کل جن باتو ں کا خوگر تھا‘ آج اس کا ذوق ان سے ابا کرتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے۔ یہ سوچ سماج کو‘ دنیا کو سمجھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
مجھ پر ایک دور بیتا ہے جب میں مسلک پرست مذہبی خطیبوں کو سنتا اور ان کی تقریروں سے حظ اٹھاتا تھا۔ یہ ایک چسکا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ چسکا کیا ہوتا ہے۔ ایک عالمِ دین کے گھر پیدا ہونے کا ایک نتیجہ یہ تھاکہ بچپن ہی سے ان مشاغل سے دور رکھا گیا‘ جن کے بارے میں اب سوچتا ہوں کہ سماج کی تفہیم کے لیے ان میں شرکت کتنی ضروری تھی۔ ہمارے گاؤں میں برگد کا ایک پرانا درخت ہے۔ اس کی گھنی چھاؤں شدید گرمی کی دوپہر میں ٹھنڈا سائبان بن جاتی تھی۔ اس کے سائے تلے گاؤں کے مرد آ بیٹھتے۔ معمول کے کام نمٹا کر‘ دوپہر کے کھانے کے بعد‘ اس درخت کے تلے نوجوانوں اور بڑوں کی ٹولیاں بیٹھ جاتیں اور تاش کھیلی جاتی۔ ٹھٹھا مذاق ہوتا اور جب سورج ڈھلنے لگتا تو لوگ گھروں کو روانہ ہو جاتے۔ یہاں تک کہ خاموشی وہاں آ بسیرا کرتی‘ جہاں کچھ دیر پہلے زندگی کے ہنگامے برپا تھے۔
بہت دل چاہتا کہ میں بھی ان ہنگاموں میں شامل ہو جاؤں مگر یہاں معاملہ یہ تھا کہ ‘پر کترنے کو لگی ہیں قینچیاں دیوار پر‘۔ والد گرامی نگرانی کرتے کہ ہم کہیں آنکھ بچا کر نکل نہ جائیں اور اس مجلس سے کچھ ایسا سیکھ آئیں جو ہماری تہذیب کے لیے مضر ہو۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے گالی دینا نہیں آئی۔ آج بھی‘ جب بال سفید ہو گئے‘ میری لغت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جسے گالی کہا جائے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ جب کوئی مجھے گالی دیتا ہے تو میں گونگا بن جاتا ہوں۔ اس معذوری پہ کبھی کبھی غصہ آتا ہے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ مہینوں میں ایک آدھ بار‘ جب والد گرامی کی آنکھ لگ جاتی تو میں آنکھ بچا کر نکل جاتا۔ دل کو دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں جاگ نہ جائیں۔ جیسے ہی ظہر ہوتی اور اذان کی آوازکان میں پڑتی‘ بھاگ نکلتے کہ اب انہوں نے لازماً اٹھ جانا ہے۔ وہاں سے آ تو جاتے لیکن ‘کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں‘۔
ہمارے ہاں ‘سانگ‘ کا بھی رواج تھا۔ شادی بیاہ کے موقع پر سانگ لگا کرتے۔ یہ سٹریٹ تھیٹر کی ایک شکل تھی‘ جس میں قدیم رومانوی داستانوں پر اداکاری کی جاتی۔ مرد ہی خواتین کا روپ بھرتے اور ‘سانگ‘ رچاتے تھے۔ ‘سانگ‘ رات کو لگتا تھا۔ دور دور کے گاؤں سے لوگ دیکھنے آتے۔ یہ تفریح کا ایک شاندار موقع ہوتا۔ جس دن کوئی سانگ ہوتا‘ والدِ گرامی رات جاگ کر گزارتے کہ کہیں ہم ان کی غفلت سے فائدہ نہ اٹھا لیں۔ ریڈیو گھر میں تھا مگر صبح تلاوت‘ ترجمہ قرآن حکیم اور ہماری زندگی کے ساتھ شاہ بلیغ الدین کی ‘روشنی‘ کو سنا جاتا۔ میرے بچپن میں مولانا احتشام الحق تھانوی کا درس بہت مقبول تھا۔ شاہ بلیغ الدین کی خطابت نے جو سماں باندھا‘ کان آج تک اس کی لذت کو محسوس کرتے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ کانوں کو بھی لذت کی ضرورت ہوتی ہے۔ عطا اللہ شاہ بخاری اپنے سامعین کو کہا کرتے تھے کہ تم کانوں کے عیاش ہو۔ شاہ صاحب کا تبصرہ غلط نہیں تھا۔ جب کانوں پر موسیقی اور اس طرز کی دیگر عیاشیوں کا دروازہ بند ہو جائے تو مذہبی آدمی کے پاس ایک ہی متبادل ہوتا ہے: مذہبی خطبا وذاکرین کی تقاریر۔ سچ یہ ہے کہ شاہ صاحب اور دیگر مذہبی خطبا نے اسی عیاشی کا اہتمام کیا اور مذہبی لوگوں کو انٹرٹینمنٹ فراہم کی جو اُن کی فطری ضرورت تھی۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جن کے پاس کانوں کی عیاشی کے لیے یہی متبادل موجود تھا۔ من پسند مقرر کی تقریر سننے کے لیے جو صعوبتیں اٹھائی جاتی تھیں‘ ان میں بھی ایک لذت تھی۔ تفصیل پھر کبھی۔
یہ ایک دور تھا جو گزر گیا۔ والدِ محترم کی وجہ سے گھر میں جو مذہبی لٹریچر آتا‘ اس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی کتب بھی شامل تھیں۔ علامہ اقبال تو تھے ہی۔ اس دور کے لوگ خوش خط تھے۔ میرے والد صاحب نے اپنے ہاتھ سے ‘ارمغانِ حجاز‘ کو نقل کیا تھا۔ میں نے اسے تبرکاً محفوظ کر لیا ہے۔ اس سے اچھی نظم و نثر سے ایک تعلق‘ ابتدا ہی میں پیدا ہو گیا۔ مولانا مودودی کی کتابیں بھی گھر میں موجود تھیں۔ والد صاحب دیوبندی علما سے قریب تھے مگر وسیع المشرب تھے۔ سب کو پڑھا اور پھر ‘دبستان شبلی‘ میں آ پناہ لی۔ آخری پڑاؤ جاوید صاحب ہیں۔ یہاں سے اٹھنے کو دل نہیں چاہتا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ‘ زندگی کے تجربات نے جب ذوق کی آبیاری کے لیے مزید دروازے کھولے تو خطابت سمیت بہت سے معاملات میں سوچ بدلنے لگی۔ جن باتوں سے کل حظ اٹھاتے تھے‘ اب ناقابلِ برداشت ہونے لگیں۔ وہ تقاریر‘ جن کو سننے کے لیے سردی کی طویل راتیں مسجدوں کے ٹھنڈے فرش پر‘ خوش دلی کے ساتھ گزاریں‘ اب مضحکہ خیز لگتی ہیں۔ صرف ان تقایر کا معاملہ نہیں‘ سیاست‘ اور معاشرت کے حوالے سے کل جو باتیں دل کو لبھاتی تھیں‘ آج طبیعت ان کی طرف کچھ رغبت محسوس نہیں کرتی۔ میں جب لوگوں کو ان میں مصروف پاتا ہوں تو حیرت سے سوچتا ہوں: کیسے لوگ ہیں جو ان خرافات میں وقت بر باد کر رہے ہیں۔ پھر یاد آتا ہے کہ میں خود اس دور سے گزر چکا۔ اس وقت تو میں ایسا نہیں سوچتا تھا۔ اس پر سوچتا ہوں کہ اس قضیے کو سمجھنے کی شعوری کوشش کی جانی چاہیے۔
ہم بدلتے ہیں تو لازم نہیں کہ دنیا بھی ہمارے ساتھ بدل جائے۔ سماج تنوع کے اصول پر کھڑا ہے۔ یہاں ہر رنگ کے لوگ ہیں اور زندگی کی رنگا رنگی انہی کے دم سے ہے۔ میں ایک دنیا سے نکل آیا مگر وہ دنیا آج بھی اُسی طرح آباد ہے۔ آج بھی اسی طرح حیاتی مماتی جھگڑے ہوتے ہیں اور لوگ ان پر مورچہ لگائے ہوئے ہیں۔ آج بھی محرم میں وہ تاریخی بحثیں زندہ ہو جاتی ہیں جو ہمارے بچپن میں ہوا کرتی تھیں۔ آج بھی لوک فنکار ایک روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ تبدیلی آئی ہے مگر ایسی نہیں کہ سب کچھ بدل گیا ہو۔ جو کچھ تبدیل ہوا ہے‘ وہ ذرائع ہیں‘ ورنہ انسان آج بھی وہی ہے۔ پہلے وہ پسندیدہ خطیب کی تقریر سننے دور کا سفر کرتا تھا۔ آج اسے یہ سب یوٹیوب پہ گھر میں میسر ہے۔ جو بدلا ہے‘ وہ پیرہن ہے‘ قالب اب بھی وہی ہے۔
لہٰذا اگر میں اور آپ بدلے ہیں تو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ سب بدل گئے ہیں۔ اگر میرے لیے کسی بات کی معنویت باقی نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دوسروں کے لیے بھی وہ ایک بے معنی بات ہے۔ واقعات انسان میں فطری ارتقا کی نفی کر رہے ہیں۔ ارتقا جتنا کچھ ہے‘ وہ ایک دائرے میں ہے۔ طاقت کا رویہ آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا۔ ظلم آج بھی اُسی طرح ہوتا ہے جیسے پہلے ہوتا تھا۔ ارتقا انسان کے طریقہ واردات میں آیا‘ انسان میں نہیں۔ آج بھی سماج میں طبقات ہیں جیسے مدتوں پہلے تھے۔ طبقات صرف معاشی نہیں ہوتے‘ ہر میدان میں ہوتے ہیں۔ کیا موسیقی پسند کرنے والوں کے ایک سے زیادہ طبقات نہیں ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ ساری دنیا ہماری طرح ہو جائے۔ جب نہیں ہوتی تو ہم کڑھتے ہیں۔ ہمیں اس کیفیت سے نکل آنا چاہیے‘ اگر ہم پُرسکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اللہ نے یہ دنیا ایسے ہی پیدا کی اور اس نے ایسا ہی رہنا ہے۔ یہاں تک کہ صور پھونک دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں