گلیات اور ایک جنگل

رسول بخش رئیس
لوگوں کو گلیات کی طرف سیرو تفریح کے لیے جاتے دیکھا تو ایسے لگا کہ شاید پورا ملک نقل مکانی کرکے پہاڑوں پر آباد ہونا چاہتا ہے۔ کبھی زندگی میں گاڑیوں‘ بسوں اور ہر طرح کی سواریوں کی اتنی طویل قطار نہیں دیکھی جو پر سوں باڑہ گلی سے واپسی پر دکھائی دی۔ اس میں کوئی مبالغہ آمیزی ہرگز نہیں کہ تقریباً ساڑھے بارہ یا ایک بجے کا وقت تھا اور نتھیا گلی سے لے کر لوئر ٹوپا تک ٹریفک زنجیر کی کڑیوں کی طرح جڑی ہوئی تھی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آگے زنجیر کا سرا کہاں پر ہے اور کب تک وہ منزل پر پہنچیں گے۔ بہرحال کہیں کوئی چہرہ اپنے دائیں ہاتھ مخالف سمت کی طرف بے بسی کے عالم میں گاڑی روکے‘ اگلی گاڑی کے کچھ حرکت کرنے کے انتظار میں اپنی طرف نظر آیا۔ اس کے چہرے پر مایوسی اور جوش وجذبے کے ملے جلے تاثر ات نظر کی عینک کے بغیر بھی جلی حروف کی صورت دکھائی دے رہے تھے۔ جی تو چاہتا ہے کہ مری‘ گلیات اور کسی زمانے کے خوبصورت پہاڑی علاقوں کے ہرے بھرے جنگلات‘ دلکش کھلے مناظر اور تنگ مگر ٹریفک کے ہجوم سے پاک سڑکوں پر پیدل سفر کی روداد لکھیں‘ مگر آج کی صورت حال کو دیکھ کر دل کو ٹھیس سی لگتی ہے۔ میرا اس طرح پہلی بار جانا تقریباً تریپن سال پہلے ہوا جب ہم اسلام آباد میں نوکری میں قدم میں جما چکے تھے۔ راولپنڈی سے ہر اتوار ویگن پر سوار ہوتے‘ مری اترتے اور وہاں سے پیدل خیرا گلی تک جاتے۔ ایک دوست ساتھ ہوتے‘ اور ہم وہاں سے پھر واپس مال پر کولڈ کافی پینے کے لیے واپسی کا سفر کرتے۔ ٹریفک تو دور کی بات ہے مقامی لوگ بھی کہیں کہیں پیدل چلتے دکھائی دیتے تھے۔ گائے‘ بکریاں چراتے چرواہے‘ کوئی بزرگ چھڑی اور چھتری ہاتھ میں تھامے یا پھر اکا دکا کوئی ویگن۔ یہ سوزوکیاں جن کی بھرمار اس مرتبہ دیکھی‘ ابھی جاپانیوں نے ایجاد بھی نہیں کی تھیں‘ اور اگر کوئی ایسی چیز بناتے بھی تھے تو وہ ہماری سڑکوں کے نصیب میں نہیں ہوتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم دنیا کے انتہائی خوبصورت پہاڑی جنگل میں آزاد گھوم پھر رہے ہیں۔ اب سب کچھ بدل گیا ہے۔
پہلا صدمہ تو اُس وقت ہوا جب ڈیرھ سال تک باقاعدہ مری کی سیر کی روحانی یادیں دل میں بسائے پینتیس سال قبل اُسی طرح کی ویگن سے پنڈی پوائنٹ پر اتر کر خیرا گلی کی طرف قدم بڑھانے شروع کیے۔ گاڑیوں سے بچتے بچاتے چند فرلانگ ہی مسافت طے کی ہوگی کہ محسوس ہوا کہ پھیپھڑوں میں آکسیجن کے بجائے عربوں کے خالص ڈیزل اور پٹرول کا دھواں بھرنے لگا ہے۔ تب یہ ماسک نما کوئی چیز دیکھی تھی نہ سنی تھی۔ یہ تحفہ تو ہمیں کووڈ نے دیا ہے۔ محسوس ہوا کہ شاید میں کسی اور ملک میں پہنچ گیا ہوں۔ دھویں اور شور شرابے کا چلتے ہوئے مقابلہ کرنے کی ٹھانی تو دل اور پھیپھڑوں کے درمیان ایسی نہ ختم ہونے والی کشیدگی محسوس کی جو ہماری قومی سیاسی زندگی میں جان نہیں چھوڑتی۔ دل کہتا کہ ہمت نہ ہارو‘ قدم بڑھاتے رہو۔ ٹریفک اور دھواں شاید کچھ دیر بعد ختم ہو جائیں گے۔ پھیپھڑوں نے جلد ہی معذوری ظاہر کر دی کہ اب یہ تمہارا انتخاب ہے کہ زندہ واپس جانا چاہتے ہو یا سفر مکمل کرنے کی ضد میں کسی دوسری صورت لوٹنے کا خیال ہے۔ آخرکار چند منٹوں میں ہم نے دل کی خواہش پر ساتھ والی پہاڑی سے ایک بڑا سا پتھر اٹھا کر رکھ لیا اور جنگل میں کوئی پگڈنڈی تلاش کرکے واپسی کی راہ لی۔ مری سے آگے سڑک پر پیدل چلنے سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔ پرسوں جو ہزارہا گاڑیاں دیکھیں تو یقین ہو گیا کہ اتنی ٹریفک میں آپ شاید سانس تو لے سکتے ہیں مگر زہریلے مادوں کے اثرات سے کوئی محفوظ نہ ہو۔ ایک یا چند دنوں میں تو انسانوں‘ پرندوں اور حیوانوں میں صحت کی خرابی تو نظر نہیں آتی‘ مگر زندگی کا دورانیہ سائنس کے مطابق کم ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں گرمی‘ آبادی کے دباؤ اور ایک طبقے کی خوشحالی نے پہاڑوں میں سیر وتفریح کا رجحان پیدا کیا ہے۔ خیر کوئی ہوشمند انسان تو اس عالم میں وہاں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
اب ہم وہاں نہیں جاتے بلکہ اپنے چھوٹے سے جنگل میں کچھ مزید جھاڑیاں اور درخت لگا کر اپنے ساتھ کچھ اپنے دوست پرندوں کی حفاظت کا انتظام کر لیتے ہیں۔ اس سب کے باوجود گلیات کا روحانی تصور ذہن سے مکمل طور پر محو نہیں ہوا۔ ایک ایسی جگہ ابھی باقی ہے جو پشاور یونیورسٹی کے پاس ہے جو اسے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے تحفے میں دی تھی۔ اس سے بڑھ کر کسی سربراہ مملکت کا کسی جامعہ کو ہماری تاریخ میں کوئی تحفہ میرے ذہن میں تو نہیں۔ انگریز دور سے باڑہ گلی میں پہاڑوں پر کسی زمانے میں فوجی کیمپ جو ہزاروں ایکڑوں میں قدیم قدرتی جنگلوں کے درمیان گھرا ہوا ہے‘ ڈیرھ صدی سے زیادہ عرصے سے اس کی بیرکیں اسی طرح اسی حالت میں قائم ہیں۔ اس کا کریڈٹ پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ کو جاتا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی ترمیم واضافے کے اس موسم گرما کے کیمپس کو اصلی و فطری حالت میں قائم رکھا ہے۔ صدیوں پرانے چیڑ کے درخت سینہ تانے ایک دوسرے سے جڑے آسمان سے باتیں کرتے دیکھنے ہوں تو ضرور ادھر کو جائیں۔ ان درختوں کے اوپر کے سرے کسی بلند جگہ سے دیکھ سکتے ہیں ورنہ آپ کو زمین پر لیٹنا ہو گا۔
شعبہ بین الاقوامی تعلقات‘ پشاور یونیورسٹی نے تقریباً دس سال پہلے سرحدی علاقوں کے بارے میں کانفرنس کی بنیاد رکھی تھی۔ چند دن پہلے اس کا تیسرا ایڈیشن تھا۔ ہمیں جب بھی اس کانفرنس میں بلایا گیا ہم جس طرح پرانے زمانے میں گلیات کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے‘ اب بھی خوشی خوشی روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس شعبے کے اساتذہ‘ طلبہ اور کے پی کی تقریباً تمام جامعات اس کانفرنس کے لیے تعاون کرتی ہیں۔ اس مرتبہ تو پاکستان کے ہر صوبے اور حصے سے طلبہ اور اساتذہ آئے اور تین دن ایسے مقالات پیش کیے کہ دل خوش ہو گیا۔ آج کے دور کے طلبہ ہوں یا اساتذہ‘ میری نسل کے اساتذہ اور طلبہ سے کئی درجے بہتر ہیں۔ انہیں تحقیق بھی کرنی آتی ہے‘ لکھنا بھی‘ بے دھڑک بولنا بھی‘ اور ان کا علمی جوش و جذبہ بھی قابلِ دید ہے۔ خواہشات تو اپنی ایسی ہیں کہ بس ہر خواہش پہ دم نکلے مگر بامقصد علمی مباحث اور تقریبات میں بیٹھنے اور سننے کی خواہش اپنی عمر کے مقابلے میں اب بھی جوان ہے۔ جنگلوں سے تو ہمیں فطری لگائو ہے اور اگر یہ مباحث ایک گھنے جنگل کے وسط میں ہو رہے ہوں تو ہم یقینا ورلڈ کپ کے میچوں کو دیکھنے کی شدید خواہش کو دبا سکتے ہیں۔ وہاں ایسی کوئی سہولت ممکن نہیں۔ جنگل میں صبح شام اور جب بھی کانفرنس میں کوئی وقفہ ہوا چلتے پھرتے محسوس ہوا کہ ابھی کچھ تو بچا ہوا ہے۔ ہر طرف ٹریلز ہیں۔ اس ماحول پر جتنا فخر کریں کم ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ اور کئی عشروں سے اس کی انتظامیہ جس طرح اس قدرتی جنگل کی نگہداشت کر رہی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ کاش ہماری نوکر شاہی اور سیاسی لوگ اس سے کچھ سبق حاصل کرتے اور تمام گلیات کو بازاروں‘ پلازوں اور گاڑیوں کے جنگل میں تبدیل نہ کر دیتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں