کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دشمن کی منظم سازش ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جائے اور پھر اس کا الزام ریاست پر عائد کرکے بلوچستان میں بداعتمادی اور انتشار کو فروغ دیا جائے، تاہم حکومت اور عوام کی مشترکہ قوت ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کا راستہ امن، استحکام اور ترقی کا راستہ ہے اور ہم کسی بھی دباؤ یا دہشت گردی کے ذریعے اس راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے وہ پیر کو کوئٹہ میں بلوچستان کے عظیم سیاسی رہنما اور شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی آٹھویں برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ تعزیتی ریفرنس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی، صوبائی وزراء بخت محمد کاکڑ، میر ضیاء اللہ لانگو، میر عاصم کرد گیلو، میر سلیم خان کھوسہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، رئیسانی قبائل کے عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں شہید میر سراج خان رئیسانی کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی اور لنگر کا اہتمام بھی کیا گیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ان کی جان سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو وہ اپنی جان دینے کے لیے بھی تیار ہیں، کیونکہ ان کے لیے عہدہ نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کی خدمت سب سے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرسی آنی جانی چیز ہے، اصل مقصد عوام کی خدمت اور صوبے میں امن و ترقی کا قیام ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے حکومت ہر ممکن اقدام کرنے کو تیار ہے اور ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا، دہشت گرد صرف ترقی، خوشحالی اور عوام کے روشن مستقبل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیحات تعلیم، صحت، روزگار اور بلوچستان کی پائیدار ترقی ہیں، جبکہ شرپسند عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرکے انہیں ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے بھارتی سرپرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کتنے ہی سراج رئیسانی شہید کر دیے جائیں، اس دھرتی کے ہر گھر سے ایک اور سراج رئیسانی اٹھے گا اور وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے کھڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کا مشن جاری رہے گا اور ان کی قربانی قوم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں پر سیاست باعث افسوس ہے۔ حکومت شہداء کے وارثوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ببری، ہنہ اڑک، زیارت سمیت دہشت گردی کے تمام متاثرین کے پاس جا کر اظہارِ یکجہتی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کے جائز مطالبات پورے کیے جائیں گے اور صوبائی حکومت اپنی تمام آئینی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ماشکیل میں بے گناہ مزدوروں کو شہید کیا گیا لیکن ان کے ورثاء نے کہیں دھرنا نہیں دیا۔ اسی طرح چند روز قبل میر شفیق الرحمان مینگل کے گھر پر حملہ ہوا، انہوں نے اپنے شہداء کو سپردِ خاک کیا اور لاشوں پر سیاست نہیں کی۔ اگر لاشوں پر سیاست مقصود ہوتی تو وہ تدفین کے بجائے احتجاج کرتے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کھڈکوچہ سانحہ، سانحہ 8 اگست اور پولیس لائن حملے جیسے المناک واقعات کے بعد بھی استعفوں سے مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ عملی اقدامات سے حالات بہتر بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گورننس، کارکردگی اور انتظامی امور پر ضرور تنقید کی جائے، مگر شہداء کی قربانیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ حکومت کی کوتاہیوں پر بات کرے لیکن شہداء کے لہو پر سیاست سے گریز کرے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان آرمی، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ حکومت اور عوام اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ پہلے بھی کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن، استحکام اور عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کو شہید کرکے وطن سے محبت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر ان کی شہادت کے بعد عوام کی محبت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ جس طرح ان کے والد ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، وہ بھی اسی عزم کے ساتھ ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔تقریب کے اختتام پر شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی سمیت وطن عزیز کے تمام شہداء کے درجات کی بلندی، ملکی سلامتی، امن اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

