سیرت حسین علیہ السلام ہی ہماری نجات کا راستہ ہے،سلطان صاحبزادہ فیاض الحسن قادری

کراچی (اسٹاف رپورٹر)”شاہ است حسینؑ، بادشاہ است حسینؑ،دین است حسینؑ، دین پناہ است حسینؑ”پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے رہنما رانا محمد احسان کی میزبانی میں رانا میرج ہال ملیر کینٹ روڈ ماڈل کالونی میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کے ایصالِ ثواب کے لیے نیازِ حلیم کی روح پرور محفل سجائی گئی تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی،نواز لیگ کے صوبائی و ضلعی عہدیداران،رانا برادری کی معزز شخصیات،ایم کیو ایم کے ایم پی اے،پی پی سندھ کے جنرل سیکرٹری و سینیٹر وقار مہدی،ضلع کورنگی کے صدر جانی میمن،کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد،،مسلم لیگ کے محبوب الہیٰ،رانا انجم،ایم این اے حکیم بلوچ،ایم پی اے رانا عبد الستار،اسرار شاہ مشوانی،ہارون خٹک،برکت اللہ صدیقی،عدنان پپی، راناانتظار، عبدالرزاق باجوہ،حیدر جوکھیو، یو سی چیئرمین غالب ڈومکی، سجاد اعوان، رانا طارق،ا عبدالوحید،نعیم احمد اعوان،علی بھٹی،اسحاق آرائیں، فرید شاہ،ندیم ہاشمی، رانا شمشاد،راؤ انتظار،رانا یاسین، راؤ شفیق،راؤ رفیق،جاوید دیوان،جاوید خان،راؤ سلیم،سعید دارا،قاری شفیق،قاری عبداللطیف،معززینِ علاقہ، دوست احباب اور صحافی برادری کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی سجادہ نشین درگاہ حق باہو سلطان پیر صاحبزادہ فیاض الحسن سہروری قادری نے حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے محفل کو اپنی گرفت میں لے لیا انہوں نے کہا کہ عشق اہل بیت اور سیرت حسین علیہ السلام میں ہی ہماری نجات ہے انہوں نے کہا کہ شان حسین پر قربان جائیں حسین علیہ السلام کا نماز کی ادائیگی کے وقت سجدے کی حالت میں سر کاٹاگیا اور جب سر نیزے پہ بلند کیا گیا تو زبان مبارک سے کلام مجید کا ورد جاری تھا ایسی شہادت نے دین اسلام کو تاقیامت تک کے لیے سر بلند کر کے رکھ دیا صاحبزادہ فیاض الحسن سروری قادری نے رانا احسان کو ایسی بابرکت محفل سجانے پر مبارکباد دی اور کہا کہ مشن حسینی ہماری نجات کا واحد ذریعہ ہے حسینی سیرت پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنی دنیا اور آخرت سنور سکتے ہیں جس نے حسین کی سیرت کو اپنایا حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنا بنا لیا نواسہ رسول اور اہل بیت سے محبت کے بغیر ہمارا ایمان نامکمل ہے آج کی محفل میں شریک تمام شرکا مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ اس محفل میں شامل ہو کر حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے میں پیش پیش ہیں سلطان فیاض الحسن سہروری قادری نے کہا آج ہم یہ عہد کرکے محفل کے اختتام پر اٹھیں گے ہم ناصرف مشن حسین کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائیں گے بلکہ درود شریف کا بھی کثرت کے ساتھ ورد کریں گے انہوں نے کہا کہ حسین علیہ السلام کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ حسین مجھ سے ہیاور حسین میرے رب کے پیار کی انتہا ہیانہوں نے مزید کہا واقعہ کربلا رہتی دنیا تک حق، سچائی، صبر، استقامت اور قربانی کی عظیم مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے اپنے اہلِ بیتؑ اور جان نثار ساتھیوں کی بے مثال قربانی دے کر اسلام کو ہمیشہ کے لیے سربلند اور زندہ و جاوید کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کربلا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ظلم، جبر، ناانصافی اور باطل قوتوں کے سامنے کبھی سر نہیں جھکانا چاہیے بلکہ حق اور انصاف کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔دعوتِ حلیم کے میزبان رانا محمد احسان نے مہمانِ خصوصی سمیت تمام معزز مہمانوں کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک ابدی پیغام ہے انہوں نے کہا کہ امام عالی مقامؑ نے ہمیں یہ درس دیا کہ حق و سچ کی خاطر ہر قسم کی آزمائش، تکلیف اور قربانی قبول کی جا سکتی ہے مگر باطل، ظلم اور ناانصافی کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا۔رانا محمد احسان نے کہا کہ آج کے دور میں ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حسینی کردار اپنانے کی اشد ضرورت ہے اگر ہم حضرت امام حسینؑ کی تعلیمات پر عمل کریں تو معاشرے سے نفرت، تعصب، ظلم، کرپشن اور ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبت، رواداری، بھائی چارے، برداشت، اتحاد اور خدمتِ خلق ہی وہ اوصاف ہیں جنہیں فروغ دے کر ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں کو صرف یاد کریں بلکہ ان کے افکار اور تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بھی بنائیں تاکہ معاشرہ امن، انصاف اور اخوت کا گہوارہ بن سکے۔تقریب کے اختتام پر حضرت امام حسین علیہ السلام، شہدائے کربلا اور امتِ مسلمہ، پاکستان کی سلامتی، دہشت گردی کے خاتمے، استحکام پاکستان،ملک کی ترقی، امن و امان اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعا مانگی گئی۔ بعد ازاں شرکاء میں پر تکلف نیازِ حلیم سے تواضع کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں