این این آئی کی خبر منسوخ، اشاعت سے گریز کی ہدایت

عطیہ داؤد پاکستان کی ممتاز ترین شاعرہ، ادیبہ، ڈرامہ نگار، خواتین کے حقوق کی علمبردار اور ادبی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ وہ معاصر سندھی ادب کی مؤثر ترین آوازوں میں سے ایک ہیں اور گزشتہ چار دہائیوں سے شاعری، نثر اور سماجی شعور کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ بنیادی طور پر سندھی زبان میں لکھنے والی عطیہ داؤد کی تخلیقات کا اردو، انگریزی، ہندی اور جرمن سمیت متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ان کی تحریریں خواتین کے حقوق، سماجی انصاف، امن اور انسانی وقار کی مضبوط ترجمان سمجھی جاتی ہیں۔

یکم اپریل 1958 کو سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے گاؤں مولیڈنو لارک میں پیدا ہونے والی عطیہ داؤد ایک علمی و ادبی ماحول میں پروان چڑھیں۔ ان کے والد محمد داؤد ایک استاد اور شاعر تھے، جنہوں نے ان میں مطالعہ اور ادب سے محبت پیدا کی۔ بعد ازاں خاندان کراچی منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے مالی مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھی اور جامعہ سندھ، جامشورو سے سندھی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

عطیہ داؤد نے طالب علمی کے زمانے میں شاعری کا آغاز کیا اور 1980 کی دہائی کے اوائل میں سندھی ادب کی ایک نمایاں آواز بن کر سامنے آئیں۔ ان کی شاعری جاگیردارانہ نظام، صنفی امتیاز، غیرت کے نام پر قتل، سماجی ناانصافی اور خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف مؤثر احتجاج ہے۔ ان کی تخلیقات خواتین کی آزادی، برابری اور وقار کی بھرپور وکالت کرتی ہیں۔ عظیم سندھی شاعر شیخ ایاز نے انہیں **”سندھی ادب کی اہم ترین نسائی ادیبہ”** قرار دیا اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بے حد سراہا۔

شاعری کے علاوہ عطیہ داؤد نے ادیبہ، ڈرامہ نگار، مضمون نگار، کالم نگار، اسکرپٹ رائٹر، محقق اور براڈکاسٹر کی حیثیت سے بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی متعدد شعری، نثری، تنقیدی اور یادداشتوں پر مبنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں معروف سوانح عمری **”آئینے کے سامنے (Images in My Mirror)”** اور **”سندھ کی عورت: سپنے سے سچ تک”** شامل ہیں۔ ان کی تخلیقات دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر بین الاقوامی جرائد اور ادبی مجموعوں کا حصہ بن چکی ہیں، جس کے ذریعے سندھی ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا ہوا۔

ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ عطیہ داؤد خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف کی سرگرم کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے مختلف ثقافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کیا، پاکستان کی نمائندگی متعدد بین الاقوامی ادبی میلوں اور کانفرنسوں میں کی، اور خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، ہراسگی کے خلاف آگاہی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے وہ جنوبی ایشیا میں خواتین کے حقوق اور سماجی شعور کی ایک مؤثر آواز سمجھی جاتی ہیں۔

ان کی شاعری کو عالمی سطح پر بھی بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔ ہندوستان کی معروف شاعرہ **امرتا پریتم** نے ان کی شاعری کی تعریف کی، جبکہ جرمنی کی ممتاز مستشرق **اینی میری شمل** نے ان کی شاعری کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا، جس کے باعث ان کی تخلیقات عالمی قارئین تک پہنچیں اور معاصر سندھی ادب کو بین الاقوامی شناخت حاصل ہوئی۔

سندھی ادب اور انسانی حقوق کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں عطیہ داؤد کو متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں **سندھ ادیب ایوارڈ** بھی شامل ہے، جو انہیں **اکھل بھارت سندھی بولی این ساہت سبھا (بھارت)** کی جانب سے عطا کیا گیا۔ آج عطیہ داؤد پاکستان کی ممتاز ترین شاعرات اور ادبی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں، جن کی بے باک تحریریں انصاف، مساوات، خواتین کے حقوق اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے مسلسل مشعلِ راہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں