ویب ڈیسک:اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو (UNESCO) نے اپنی تازہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک گزشتہ سال تعلیم پر ہونے والے اخراجات کے مقابلے میں غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر زیادہ رقم خرچ کرنے پر مجبور رہے، جس سے عالمی تعلیمی نظام کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ تعلیم کیلئے عالمی امداد میں مسلسل کمی اس بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں مجموعی طور 113 ترقی پذیر ممالک ایسے تھے جہاں تعلیم کے بجائے قرضوں کی ادائیگی کو ترجیح دینی پڑی۔ یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو لاکھوں بچوں کی تعلیم اور ان ممالک کی مستقبل کی معاشی ترقی دونوں متاثر ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحارا افریقہ کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں ممالک نے تعلیم کے مقابلے میں اوسط3.6گنا زیادہ رقم قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کی۔ اس کے باعث کئی ممالک میں تعلیمی بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے اور بنیادی تعلیمی سہولتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ یونیسکو نے مزید خبردار کیا کہ تعلیم کے لیے عالمی امداد میں مسلسل کمی اس بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کےادارے کے مطابق کم اور کم متوسط آمدنی والے ممالک سال2023 میں تعلیم کیلئےفراہم کی جانے والی امداد کا پہلے ہی21فیصد کھو چکے ہیں، جبکہ اندازہ ہے کہ سال 2027 تک اس امداد میں مجموعی طور پر 30؍ فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ افغانستان، مالی، نائیجر اور لائبیریا جیسے ممالک گزشتہ تین برسوں کے دوران تعلیم کے شعبے میں ملنے والی بین الاقوامی امداد کا40فیصد سے زیادہ حصہ کھو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے تعلیمی نظام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
یونیسکو کے شعبۂ تعلیم کے ڈائریکٹر من جیونگ کم نے کہا کہ موجودہ مالیاتی نظام ممالک کو کفایت شعاری، کم سرمایہ کاری اور سست معاشی ترقی کے ایک ایسے چکر میں پھنسا رہا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی ترقی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ملکی آمدنی میں اضافے اور مستقبل میں قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو بھی کمزور بنا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ قرضوں میں ڈوبے ہوئے 18 ممالک ایسے ہیں جہاں قرضوں کی ادائیگی پر تعلیم کے مقابلے میں5 گنا زیادہ اخراجات کئے گئے، جبکہ سری لنکا میں یہ فرق سب سے زیادہ رہا، جہاں حکومت نے تعلیم کے مقابلے میں16 گنا زیادہ رقم قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کی۔
انگلینڈ میں قائم تنظیم Debt Justice کے مطابق غریب ممالک کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی گزشتہ سال35 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔56ممالک نے اپنی مجموعی قومی آمدنی کا تقریباً 20فیصد صرف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیا۔ تنظیم کے پالیسی ڈائریکٹر ٹم جونز نے کہا 2019 میں پھیلنے والے کورونا ، توانائی کی قیمتوں میں اضافے، بلند شرح سود اور موسمیاتی آفات نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے بوجھ میں نمایاں اضافہ کیا ہے، امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے امداد میں کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ صرف 2024 میں تعلیم کیلئے فراہم کی جانے والی عالمی امداد میں تقریباً 600 ملین امریکی ڈالر کی کمی ریکارڈ کی ہوئی، اور2025میں اس میں مزید کمی کا امکان ظاہر کی گئی۔ یونیسکو کے مطابق مالی وسائل میں مسلسل کمی کے باعث متعدد ممالک میں اسکولوں کے لیے بنیادی اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، کئی مقامات پر اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی متاثر ہوئی ہے اور تعلیمی منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔

