کراچی(رپورٹڑ ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام ممتاز صحافی، مصنفہ اور ماہرِ تعلیم زبیدہ مصطفیٰ کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریب کا انعقاد جوش ملیح آبادی لائبریری میں کیا گیا۔ تقریب میں صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ،غازی صلاح الدین، ڈاکٹر کملیشور لوہانہ، سیما لیاقت، پشپا والابھ، صادقہ صلاح الدین، شمع عسکری اور حوا سمیت ادبی، صحافتی، تعلیمی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی، جبکہ نظامت کے فرائض بیلا جمیل نے انجام دیے۔ تقریب کے آغاز میں بیلا جمیل نے زبیدہ مصطفیٰ پر تحریر کردہ اپنا مضمون پیش کیا۔ اس موقع پر مقررین نے زبیدہ مصطفیٰ کی صحافتی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں علم، تحقیق، اصول پسندی اور انسان دوستی کی روشن علامت قرار دیا۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زبیدہ مصطفیٰ آرٹس کونسل کے مختلف علمی پروگراموں کا اہم حصہ رہیں۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم، بچوں کی تعلیم اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے غیرمعمولی خدمات انجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زبیدہ مصطفیٰ روشنی کا ایسا مینار تھیں جنہیں بعد کی نسلوں نے مشعلِ راہ بنایا، اور ان کی تحریروں نے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ غازی صلاح الدین نے کہا کہ زبیدہ مصطفیٰ تحقیق، علم اور معیاری صحافت کی نمائندہ شخصیت تھیں۔ انہوں نے صحافت کو ہمیشہ علمی بنیادوں پر استوار رکھا اور اپنی پیشہ ورانہ دیانت، مطالعے اور سیکھنے کے جذبے سے صحافت میں منفرد مقام حاصل کیا۔ حوا نے کہا کہ زبیدہ مصطفیٰ بچوں کی فطری صلاحیتوں پر یقین رکھتی تھیں۔ انہوں نے اسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کے لیے ایک غیر رسمی تعلیمی پروگرام تشکیل دیا، جس میں بچوں کی پڑھنے، لکھنے، سوچنے اور اظہارِ خیال کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا گیا۔ شمع عسکری نے کہا کہ زبیدہ مصطفیٰ نئی نسل کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی پر یقین رکھتی تھیں۔ انہوں نے بچوں میں مطالعے، تنقیدی سوچ اور اظہارِ خیال کو فروغ دینے کے لیے “سنو، سوچو، سناؤ* کے عنوان سے ریڈنگ پروگرام ترتیب دیا، جس کے ذریعے بچوں میں اعتماد اور تخلیقی صلاحیتیں اجاگر ہوئیں۔ سیما لیاقت نے کہا کہ زبیدہ مصطفیٰ کے ساتھ گزارا گیا ہر لمحہ سیکھنے کا موقع تھا۔ انہوں نے اپنی ذاتی تصویروں کا ذخیرہ اور بعد ازاں اپنی ویب سائٹ کی ذمہ داری بھی انہیں سونپی، تاکہ نئی نسل ان کے کام اور فکر سے آگاہ رہ سکے۔ ڈاکٹر کملیشور لوہانہ نے کہا کہ زبیدہ مصطفیٰ صرف ایک ممتاز صحافی نہیں بلکہ فکری دیانت، جرات اور اصول پسندی کی علامت تھیں۔ انہوں نے کہا کہ روزنامہ ڈان کے ادارتی بورڈ کی پہلی خاتون رکن کی حیثیت سے انہوں نے پاکستانی صحافت میں خواتین کے لیے نئی راہیں ہموار کیں اور تحقیق پر مبنی صحافت کو فروغ دیا۔ پشپا والابھ نے کہا کہ زبیدہ مصطفیٰ نے زندگی کو مثبت انداز سے جینے، تبدیلی کو قبول کرنے اور دوسروں کی تربیت کرنے کا ہنر سکھایا۔ ان کے مطابق زبیدہ مصطفیٰ تعلیم، خصوصاً خواتین اور بچوں کی مادری زبان میں تعلیم کی مضبوط داعی تھیں اور علم کو ہر فرد کا بنیادی حق سمجھتی تھیں۔ صادقہ صلاح الدین نے کہا کہ زبیدہ مصطفیٰ کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد بااختیار بنانا تھا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتی تھیں کہ تعلیم ایسی ہو جو بچوں میں سوچنے، سوال کرنے اور مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت پیدا کرے۔ انہوں نے بچوں کی دلچسپی بڑھانے کے لیے تخلیقی تدریسی سرگرمیوں، بالخصوص ڈرامے اور کہانی کو مؤثر ذریعہ قرار دیا۔

