شاہد صدیقی
پاکستان کی جامعات متعدد مسائل کا شکار ہیں جن میں فنڈز کی عدم دستیابی‘ داخلوں میں کمی‘ غیر مؤثر گورننس اور ڈگریوں کا گرتا ہوا معیار شامل ہیں‘ لیکن ان کے علاوہ بھی ایک مسئلہ ایسا ہے جو باقی تمام مسائل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ ہے جامعات کو ایڈہاک بنیادوں پر چلانے کا رواج۔ پاکستان کی کئی جامعات باضابطہ وائس چانسلر کے بجائے قائم مقام یا اضافی چارج رکھنے والے کسی وائس چانسلر کے زیرِ انتظام ہوتی ہیں‘ کبھی مہینوں کیلئے تو کبھی برسوں کیلئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تقرری کا عمل جان بوجھ کر سست رکھا جاتا ہے۔ صوبوں میں یہ عمل سرچ کمیٹی‘ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن‘ محکمہ اعلیٰ تعلیم‘ وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس سے گزرتا ہے۔ وفاقی جامعات کیلئے اس میں وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن‘ وزارتِ تعلیم اور صدرِ مملکت کا سیکرٹریٹ بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی مرحلے پر فائل مہینوں تک بغیر کسی جوابدہی کے پڑی رہ سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ وہ صورتحال ہے جسے خودکار نظام کہا جا سکتا ہے۔ چونکہ ایکٹنگ وائس چانسلر کا چارج عارضی ہوتا ہے اس لیے اس کا اختیار بھی عارضی رہتا ہے۔ قائم مقام وائس چانسلر کوئی اہم اور دور رس فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں‘ چاہے وہ طویل المیعاد تعلیمی یا تعمیراتی منصوبہ ہو یا یونیورسٹی میں اہم تقرریاں ہوں۔
اکثر قائم مقام وائس چانسلرز کی مسلسل یہ کوشش ہوتی ہے کہ عارضی چارج کو کیسے طول دیا جائے اور کیسے اسے مستقل چارج میں بدل دیا جائے۔ اسی لیے جامعات کے اکثر قائم مقام سربراہ عموماً ایسے فیصلوں سے گریز کرتے ہیں جو غیرمقبول ہوں‘ جیسے نااہل فیکلٹی کے خلاف تادیبی کارروائی‘ داخلوں میں دباؤ کا مقابلہ یا مالیاتی معاملات میں سختی۔ اس کے برعکس ان کی توجہ میرٹ کے برعکس ترقیوں‘ ایڈہاک تقرریوں کو مستقل کرنے اور دیگر رعایات کی طرف ہوتی ہے۔ ان سب مقبولِ عام اقدامات کا مقصد یونیورسٹی میں ملازمین کے گروہوں کی حمایت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ حمایت ان کے خواب کی تعبیر حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے ایڈہاک انتظامات کی قیمت تین گروہوں کو چکانا پڑتی ہے۔ یونیورسٹی‘ فیکلٹی اور طلبہ۔ یونیورسٹی کی ترقی کا سفر رک جاتا ہے۔ حکمتِ عملی کے منصوبے جامد ہو جاتے ہیں۔ تعلیمی معیار گر جاتے ہیں۔ ملازمین طویل غیریقینی صورتحال میں زندگی گزارتے ہیں۔ ترقیاں اور معمول کی منظوریاں مؤخر ہوتی رہتی ہیں اور بدترین صورت میں وزٹنگ فیکلٹی کی تنخواہیں اور پنشن مہینوں تک ادا نہیں ہوتیں کیونکہ کوئی بھی اس ذمہ داری پر دستخط کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو اٹھانا پڑتا ہے جنہیں ایڈہاک ازم کی سزا ہر قدم پر ملتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اس ساری صورتحال سے آسانی سے بچا جا سکتا ہے۔ جس تاریخ کو کسی وائس چانسلر کی مدت ختم اور اسامی خالی ہونی ہوتی ہے‘ وہ برسوں پہلے سے معلوم ہوتی ہے۔ یہ تاریخ تقرری کے پہلے دن ہی تقرر نامے میں درج ہوتی ہے۔ ایسی کوئی واضح وجہ نظر نہیں آتی کہ جانشین کی تلاش چھ مہینے پہلے کیوں شروع نہیں کی جا سکتی تاکہ نیا وائس چانسلر اُسی ہفتے چارج سنبھال لے جس ہفتے پرانا وائس چانسلر رخصت ہو۔ لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاملہ محض انتظامی نہیں اکثر سرکاری فیصلہ ساز مستقل سربراہ کے بجائے ایک لچکدار قائم مقام سربراہ کو ترجیح دیتے ہیں۔
اپریل 2024ء میں جامعات کے اساتذہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک رِٹ پٹیشن دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ ملک کی بڑی تعداد میں سرکاری جامعات مستقل وائس چانسلرز کے بغیر کام کر رہی ہیں۔ اگلے مہینے ایچ ای سی کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ملک کی 154 سرکاری جامعات میں سے 66‘ یعنی تقریباً 43 فیصد بغیر کسی باقاعدہ مقرر کردہ سربراہ کے تھیں‘ اور وفاقی حکومت کی اپنی 29 جامعات میں سے پانچ قائم مقام چارج پر تھیں۔ یہ عدالت کیلئے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ عدالت پہلے ہی عامر رضا اشفاق بنام منہاج احمد خان (2012ء) کے مقدمے میں یہ قرار دے چکی تھی کہ وائس چانسلر کا عہدہ خالی نہیں چھوڑا جانا چاہیے کیونکہ اس تقرری میں تاخیر جامعہ کے کام کاج پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ عدالت نے حکام کو تین ماہ کے اندر خالی اسامیاں پُر کرنے کی ہدایت دی۔ کچھ جامعات نے عمل کیا‘ بیشتر نے نہیں کیا۔
دو سال بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کو تقریباً وہی بات دوبارہ کہنا پڑی۔ فروری 2026ء کو ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے ہر جامعہ کو خط لکھا جس میں وائس چانسلر‘ رجسٹرار‘ ٹریژرر اور فیکلٹی کی اسامیوں کے دائمی طور پر پُر نہ ہونے کو مستقل نوعیت کی گورننس کی ناکامی قرار دیا۔ خط کی بنیاد بننے والے ایک سروے کے مطابق ملک بھر میں فیکلٹی اور انتظامی اسامیوں میں سے تقریباً 40 فیصد خالی پائی گئیں۔ جامعات کو بھرتی مکمل کرنے کیلئے 15 اگست 2026ء تک کی مہلت دی گئی ورنہ انتظامی اور ریگولیٹری نتائج بھگتنے کی وارننگ دی گئی۔ کیا یہ ڈیڈ لائن 2024ء کی سپریم کورٹ کی ہدایت سے بہتر نتیجہ دے گی‘ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
آئیے تعلیمی ایڈہاک ازم کے حوالے سے وفاقی جامعات کی صورتحال دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی نمایاں ترین جامعات میں سے ایک قائداعظم یونیورسٹی چھ فروری 2026ء کو اپنے ریگولر وائس چانسلر سے محروم ہوئی‘ جب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر ایچ ای سی کے چیئرمین کے عہدے پر ترقی پا گئے۔ اس کے بعد دو ماہ تک یونیورسٹی کا کوئی سربراہ نہیں تھا‘ نہ قائم مقام اور نہ مستقل۔ سات اپریل کو پروفیسر جسپال کو تین ماہ کیلئے قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ پانچ ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود قائداعظم یونیورسٹی مستقل وائس چانسلر کے بغیر چل رہی ہے۔ایک اور وفاقی یونیورسٹی‘ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی کہانی بھی ملتی جلتی ہے۔ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی کی بطور ریکٹر مدت 2023ء میں ختم ہوئی۔ ان کی جانشین ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ ملک تھیں‘ ان کو ایک سال کے اندر ہی 2024ء میں معطل کر دیا گیا جب سپریم کورٹ نے ان کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیا۔ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے اس کے بعد قائم مقام ریکٹر کا چارج سنبھالا۔ یوں دو سال گزرنے کے باوجود اسلامی یونیورسٹی کو مستقل ریکٹر نہیں مل سکا۔
ایک تیسری وفاقی یونیورسٹی نیشنل سکلز یونیورسٹی کی کہانی سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ اس کے بانی وائس چانسلر پروفیسر محمد مختار نے 2019ء سے 2023ء تک خدمات انجام دیں‘ تب سے اب تک یعنی پچھلے تین برسوں سے یہ یونیورسٹی قائم مقام بنیادوں پر چلائی جا رہی ہے۔ جہاں نظام کام کرتا ہے وہاں بھی شاذ و نادر ہی بروقت کام کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال ورچوئل یونیورسٹی ہے۔ ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کو جون 2026ء میں مستقل ریکٹر ملا جنہیں صدرِ مملکت نے چار سالہ مدت کیلئے مقرر کیا‘ مگر یہ تقرری پندرہ ماہ کے عبوری چارج کے بعد ہوئی جو مارچ 2025ء میں شروع ہوا تھا۔ اگر اسے انتظامی کامیابی سمجھا جائے تو یہ خود اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارا معیار کتنا گر چکا ہے۔
اس ساری صورتحال کو درست کرنا مشکل نہیں۔ نہ ہی اس کیلئے کسی اضافی فنڈ کی ضرورت ہے۔ صرف اتنا درکار ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں وائس چانسلر کی تقرری کا بروقت اہتمام کریں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ تلاش کا عمل جلدی شروع کیا جائے کہ اقتدار کی منتقلی براہِ راست ہو سکے‘ اور رخصت ہونے والے اور نئے وائس چانسلر کے درمیان مناسب بریفنگ کیلئے وقت میسر ہو۔ یوں حکومت وائس چانسلرز کی تقرری کے عمل کو باقاعدہ اور بروقت بنا کر جامعات میں تعلیمی معیار کی بہتری یقینی بنا سکتی ہے۔
Load/Hide Comments

