سانچ: تاریخی تانگہ اسٹینڈ سے جدید پارکنگ تک، بدلتی ہوئی شہری شناخت

تحریر: محمدمظہررشید چودھری (03336963372)

شہر صرف عمارتوں، سڑکوں اور بازاروں کا نام نہیں ہوتے بلکہ ان کی پہچان ان مقامات سے بھی بنتی ہے جہاں نسلوں کی یادیں، روزگار اور روزمرہ زندگی کی رونقیں آباد رہی ہوں۔ اوکاڑہ کا تاریخی تانگہ اسٹینڈ بھی ایسا ہی ایک مقام تھا، جو قیامِ پاکستان کے بعد کئی دہائیوں تک شہر کی نقل و حمل کا اہم مرکز رہا۔ یہاں سے روزانہ سینکڑوں مسافر شہر کے مختلف علاقوں اور گردونواح کے دیہات کا سفر کرتے تھے۔ تانگوں کی ٹاپوں کی آواز، کوچوانوں کی صدائیں اور مسافروں کی چہل پہل اس جگہ کی شناخت تھیں۔ وقت نے کروٹ بدلی، ٹرانسپورٹ کے ذرائع تبدیل ہوئے اور تانگوں کی جگہ موٹرسائیکلوں، رکشوں اور دیگر جدید سواریوں نے لے لی۔ اب اسی تاریخی مقام پر جدید پارکنگ ایریا قائم ہو چکا ہے، جو ایک نئے دور کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔گول چوک، ریل بازار اور مین بازار اوکاڑہ کے سب سے مصروف تجارتی مراکز شمار ہوتے ہیں۔ روزانہ ہزاروں شہری خریداری، کاروبار اور مختلف ضروریات کے لیے ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ آبادی اور گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث پارکنگ کا مسئلہ کئی برسوں سے شدت اختیار کر چکا تھا۔ لوگ سڑکوں کے کنارے گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور تھے، جس سے ٹریفک جام معمول بن چکا تھا۔ ایسے حالات میں تاریخی تانگہ اسٹینڈ کو جدید پارکنگ ایریا میں تبدیل کرنے کا فیصلہ شہری سہولت کے نقطہ نظر سے ایک مثبت اور بروقت اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔میونسپل کمیٹی اوکاڑہ نے تقریباً تین کروڑ چورانوے لاکھ بیس ہزار روپے کی لاگت سے اس منصوبے کو مکمل کیا۔جبکہ اس کا ٹھیکہ مرزا کنسٹرکیشن فرم اوکاڑہ نے حاصل کیا،نئی پارکنگ میں شیڈز، ٹف ٹائلز، منظم پارکنگ لائنیں، بہتر نکاسی آب اور محفوظ پارکنگ کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف شہری اپنی گاڑیاں اطمینان سے کھڑی کر سکیں گے بلکہ مرکزی بازار میں بے ہنگم پارکنگ کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات میں بھی واضح کمی آنے کی امید ہے۔ دیپالپور روڈ اور گول چوک کے اطراف ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، جبکہ شہر کی مجموعی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔سانچ کے قارئین کرام! ترقیاتی منصوبے اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ وہ عوامی ضروریات کو کس حد تک مدنظر رکھتے ہیں۔ اس منصوبے کے دوران سندھی محلہ میں سامنے آنے والا تنازع اسی حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ جب پارکنگ کی بیرونی دیوار کی بنیادیں محلے کی آخری گلی کے ساتھ رکھی جا رہی تھیں تو مقامی رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ گلی اتنی تنگ ہو جائے گی کہ ایمبولینس، ہنگامی گاڑیاں اور حتیٰ کہ جنازے بھی آسانی سے نہیں گزر سکیں گے۔ یہ محض ایک معمولی اعتراض نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی کا بنیادی مسئلہ تھا۔ منصوبے کی ابتدائی صورتِ حال پر اہلِ محلہ نے شدید احتجاج کیا، جس کے دوران سابق کونسلر اکبر علی خان کی گرفتاری نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔ تاہم، بعد ازاں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں انتظامیہ نے منصوبے میں جزوی ترمیم کرتے ہوئے عوامی مطالبے کو جزوی طور پر تسلیم کیا اور آمدورفت کی سہولت برقرار رکھنے کے لیے تقریباً سات فٹ چوڑی گزرگاہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے ثابت کیا کہ اگر ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کی بات سنی جائے تو مسائل تصادم کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وہ طرزِ حکمرانی ہے جس کی ہر ترقی پذیر شہر کو ضرورت ہے۔یہ منصوبہ ایک اور اہم حقیقت کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اوکاڑہ جیسے شہروں میں اب شہری انفراسٹرکچر کو نئی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کا وقت آ چکا ہے۔ ماضی میں جب گاڑیوں کی تعداد کم تھی تو پارکنگ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، لیکن آج صورتحال مختلف ہے۔ اگر بازاروں، سرکاری دفاتر، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے قریب مناسب پارکنگ کی سہولت موجود نہ ہو تو ٹریفک کا پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی منصوبہ بندی مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر کی جانی چاہیے۔شہریوں کی جانب سے ضیاء شہید لائبریری کے قریب،تحصیل روڈپر بھی جدید پارکنگ اسٹینڈ قائم کرنے کا مطالبہ قابلِ غور ہے۔ اگر مرکزی شہر میں مختلف مقامات پر منظم پارکنگ ایریاز تعمیر کیے جائیں تو نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ بازاروں میں آنے والے خریداروں کو بھی سہولت ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ فٹ پاتھ، مناسب روشنی، سی سی ٹی وی نگرانی اور صفائی کے مؤثر انتظامات بھی ایسے منصوبوں کا لازمی حصہ ہونے چاہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخی مقامات صرف زمین کے ٹکڑے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک شہر کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ تانگہ اسٹینڈ اب اپنی پرانی شکل میں موجود نہیں، مگر اس کی تاریخ کو محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ پارکنگ ایریا میں ایک معلوماتی تختی یا یادگاری کونے کے ذریعے اس مقام کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے تاکہ نئی نسل جان سکے کہ کبھی یہی جگہ اوکاڑہ کی سفری زندگی کا مرکز ہوا کرتی تھی۔ترقی کا مطلب صرف نئی عمارتیں کھڑی کرنا نہیں بلکہ ایسی منصوبہ بندی کرنا ہے جو عوام کی زندگی کو آسان، محفوظ اور بہتر بنائے۔ اوکاڑہ کے تاریخی تانگہ اسٹینڈ کو جدید پارکنگ ایریا میں تبدیل کرنا اسی سوچ کی ایک مثال ہے۔ اگر اس منصوبے کی مناسب دیکھ بھال کی جائے، پارکنگ کا مؤثر نظام نافذ کیا جائے اور مستقبل میں شہر کے دیگر مصروف علاقوں میں بھی اسی طرز کی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ منصوبہ شہری ترقی کے ایک کامیاب ماڈل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کی یادوں کا احترام کرتے ہوئے مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنا ہی حقیقی ترقی ہے۔ اوکاڑہ کا یہ منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بہتر منصوبہ بندی، عوامی مشاورت اور جدید سہولیات ایک شہر کی شناخت کو مثبت انداز میں بدل سکتی ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے شہری مسائل کے مستقل اور پائیدار حل کی جانب عملی اقدامات جاری رکھے جائیں، تاکہ اوکاڑہ واقعی ایک جدید، منظم اور شہری سہولتوں سے آراستہ شہر بن سکے٭

اپنا تبصرہ بھیجیں