تحریر: اقبال دشتی
شہید مولابخش دشتی صاحب عوامی حقوق کے ایک مخلص، نڈر، بااصول اور عوام دوست رہنما تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دشت کے عوام کی خدمت، جمہوری سیاست کے فروغ اور مظلوم لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔ دشت کے عوام انہیں اپنا حقیقی دوست، رہنما اور خیرخواہ سمجھتے تھے، کیونکہ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہتے، ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے اور شب و روز ان کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان کی وفات نے دشت کے عوام کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا، اور یوں محسوس ہوا کہ عوام اپنے ایک مخلص رہنما اور بے لوث خدمت گزار سے محروم ہو گئے ہیں۔
شہید مولابخش دشتی صاحب نے طالب علمی کے زمانے میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) میں شمولیت اختیار کی اور اسی پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کی سیاست کا مقصد اقتدار، شہرت یا ذاتی مفاد حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ پوری زندگی دشت کے مظلوم عوام کے حقوق، عزت اور بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔
وہ ایک نہایت دیانت دار، اصول پسند، باکردار اور بااخلاق شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے ہمیشہ سچائی، انصاف اور اصولوں کو مقدم رکھا اور اپنی پوری سیاسی زندگی میں کبھی اپنے نظریات اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
شہید مولابخش دشتی صاحب جمہوری سیاست پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ وہ عوام کی رائے، باہمی مشاورت، برداشت اور جمہوری اقدار کو ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال معاشرے کی بنیاد قرار دیتے تھے۔
بی این ایم کی تشکیل میں بھی ان کا کردار نہایت اہم اور تاریخی حیثیت کا حامل تھا۔ انہوں نے تنظیم کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے، سیاسی شعور بیدار کرنے اور عوامی سیاست کو فروغ دینے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
وہ ہمیشہ عوام کے مسائل، مشکلات اور جائز حقوق کی توانا آواز بنے رہے۔ ہر فورم پر انہوں نے دشت کے عوام کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا اور ان کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔
اگرچہ آج شہید مولابخش دشتی صاحب ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کا مشن، ان کے نظریات، ان کی دیانت داری اور عوامی خدمت کا جذبہ آج بھی زندہ ہے۔ ان کی جدوجہد، کردار اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور وہ ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

