او آئی سی کانفرنس میں پاکستان کا خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی سیاسی قیادت کے فروغ کی بھرپور وکالت

اسلام آباد( رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کی 9ویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے، سیاسی شمولیت، مؤثر قیادت اور فیصلہ سازی میں ان کے فعال کردار کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔ اپنے خطاب میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف انہیں نمائندگی فراہم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ انہیں قیادت، قانون سازی، حکمرانی، پالیسی سازی اور قومی و بین الاقوامی سطح پر فیصلہ سازی کے تمام مراحل میں موثر، باوقار اور بامعنی شرکت کے مساوی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی پائیدار ترقی، سماجی استحکام اور خوشحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور قیادت کے مواقع میسر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خواتین کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات اور خواتین کی سیاسی و سماجی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہے۔ آئین پاکستان خواتین کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے جبکہ حکومت مختلف شعبوں میں خواتین کی نمائندگی، معاشی خودمختاری، تعلیم، صحت اور انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر قانون سازی اور اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے او آئی سی پلان آف ایکشن برائے خواتین (OPAAW) پر موثر اور مربوط عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کو قانون سازی، ادارہ جاتی اصلاحات، پالیسی اقدامات اور باہمی تعاون کے ذریعے خواتین کی ترقی اور قیادت کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے پانچ سالہ “OIC Women Political Leadership Compact” تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی، جس کے ذریعے خواتین اراکینِ پارلیمنٹ، پالیسی سازوں اور ابھرتی ہوئی خواتین رہنماؤں کے درمیان تجربات کے تبادلے، تربیت، استعداد کار میں اضافے اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو سیاسی، معاشی اور سماجی میدان میں بااختیار بنانا نہ صرف انسانی حقوق کا تقاضا ہے بلکہ یہ مضبوط جمہوری نظام، شفاف حکمرانی اور پائیدار ترقی کی بنیاد بھی ہے۔ مسلم ممالک کو خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے مشترکہ اور مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک زیادہ منصفانہ، مساوی اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خواتین کے وقار، مساوی مواقع، انصاف، بااختیار شمولیت اور قیادت کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں پوری سنجیدگی سے جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو قومی ترقی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہی ایک مضبوط، خوشحال، پرامن اور منصفانہ معاشرے کی ضمانت ہے، اور پاکستان اس مقصد کے حصول کے لیے او آئی سی سمیت عالمی برادری کے ساتھ اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں