کوئٹہ(این این آئی) خانوزئی کے قبائلی رہنماؤں حاجی اشفاق احمداور ملک احمد وفا نے کہا ہے کہ الجبل کمپنی پر ایک مسئلہ کے باعث کام تحریری طور پر کام بند کیا گیا ہے گزشتہ دنوں کرومائیٹ سے لوڈ گاڑیاں پولیس آفیسران کی سرپرستی میں لے جارہے تھے جس پر علاقہ معتبرین اور لوگوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی نہ مانے پر لوگوں نے اس کے خلاف شاہراہ بلاک کرکے پر امن احتجاج کیا اہل مکینوں پر فائرنگ کرکے انہیں مرعوب کرنے کی کوشش کی گئی جوکہ قابل مذمت ہے۔ پولیس کا کام امن وامان قائم کرنا ہے ان کو کرومائیٹ لے جانے اور حصہ لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کرکے ان کا تبادلہ کیا جائے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی اس موقع پر حاجی ظہور احمد، حاجی جان محمد، حاجی محمد اکبرسمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مائنز اینڈ منرل ایکٹ 2025ئکی آڑ میں وسائل پر ڈاکہ ڈالنے اور لوٹ مار کیلئے با اثر افراد مقامی لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کررہے ہیں اس حوالے سے عدالت عالیہ نے باقاعدہ آرڈر جاری کیا ہے کہ مقامی لوگوں کو الاٹمنٹ کیا جائے۔ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کی بجائے غیر مقامی لوگوں کو الاٹمنٹ کا سلسلہ جاری ہے جس کی ہم مذمت اور اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الجبل کے نمائندوں سے اہل علاقہ نے تحریری معاہدہ کیاہے کہ مسئلہ حل نہ ہونے تک کوئی بھی کام نہیں کرسکے گا لیکن 14 جولائی کو مقامی لوگوں کو اطلاع ملی کہ پہاڑ سے 2ڈمپر کرومائیٹ سے لوڈ نکلے ہیں ہم نے الجبل کے نمائندوں سے رابطہ کیا انہوں نے کہا کہ منشی نے غلطی سے لوڈ کئے ہیں ہم نے اپنے نمائندے کے ذریعے خالی کرانے کی کوشش کی لیکن اے ٹی ایف کے انچارج فیض الدین اور گل نے گاڑیاں خالی کرنے نہیں اور کہاکہ گاڑیاں ہم لے جائیں گے جس کے خلاف لوگوں نے قومی شاہراہ بلاک کرکے احتجاج کیا تو ہمیں ڈی ایس پی خانوزئی نے دھمکیاں دی اور کہا کہ ہر صورت گاڑیاں لے جائیں گے جس کے بعد شیلنگ اور فائرنگ کرکے لوگوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کی جوکہ قابل مذمت اور پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کیونکہ سیکورٹی اداروں کا کام امن وامان قائم کرنا ہے نہ کہ کمپنی سے حصہ وصول کرناہے۔

