سانحہ زیارت کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال پرتاجروں کے شکر گزارہیں، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان

کوئٹہ(این این آئی)مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں بلوچستان بھر میں شہدائے زیارت مانگی دھرنا کمیٹی، آل پارٹیز اور مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کی مشترکہ کال پر ہونے والی کامیاب صوبہ گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال پر بلوچستان بھر کی تاجر برادری، تمام مارکیٹوں، بازاروں، تجارتی مراکز اور ضلعی انجمن تاجران کے عہدیداران و تاجروں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے باشعور تاجروں نے اپنے کاروبار مکمل طور پر بند کرکے شہدائے مانگی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، دہشت گردی کے خلاف اپنے اجتماعی مؤقف اور حکومت کی ناکام امن و امان پالیسیوں کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ زیارت کے علاقے مانگی میں دہشت گردوں کے سفاکانہ حملے میں 35 پولیس اہلکاروں کی شہادت بلوچستان کی تاریخ کے المناک ترین سانحات میں سے ایک ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اپنے ہی شہید اہلکاروں کی لاشیں بروقت واپس لانے میں ناکام رہے، جس کے بعد لواحقین نے خود اپنے پیاروں کی میتیں وصول کرکے کوئٹہ منتقل کیں اور انصاف کے حصول کے لیے دھرنا دینے پر مجبور ہوئے۔ یہ صورتحال حکومتی نااہلی، کمزور حکمت عملی اور امن و امان کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔بیان میں کہا گیا کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کی اپیل پر صوبے کے طول و عرض میں تاجروں نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ کچلاک، پشین، سرانان، خانوزئی، مسلم باغ، قلعہ سیف اللہ، ڑوب، شیرانی، لورالائی، موسیٰ خیل، میختر، رکھنی، بارکھان، دکی، سنجاوی، زیارت، ہرنائی، شاہرگ، سبی، چمن سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع اور تحصیلوں میں تجارتی مراکز میں شٹر ڈاؤن ہڑتال مکمل طور پر کامیاب رہی اور تمام چھوٹے بڑے بازار بند رکھ کر شہدائے مانگی کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے اپنے تمام ضلعی یونٹس، بازاروں کے یونٹوں، مارکیٹوں کے یونٹوں کے تمام عہدیداروں اور تاجروں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی اور بعد ازاں شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنا کر یہ ثابت کردیا کہ بلوچستان کی تاجر برادری دہشت گردی، بدامنی اور بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔بیان میں کہا گیا کہ آج بلوچستان کا ہر شہری عدم تحفظ کا شکار ہے۔ تاجر، ٹرانسپورٹر، زمیندار، مزدور، سرکاری ملازمین اور عام شہری سب دہشت گردی اور بدامنی سے شدید متاثر ہیں۔ آئے روز ہمارے پولیس اور لیویز کے جوان دہشت گردی کی نذر ہو رہے ہیں، جبکہ قومی شاہراہیں عملاً غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ مال بردار گاڑیوں اور مسافر بسوں کو نذرِ آتش کیا جا رہا ہے، اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتی اور بھتہ خوری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مسلح گروہ کھلے عام قومی شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کرکے گاڑیوں کی چیکنگ کرتے ہیں، جو ریاستی عملداری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ایسی صورتحال کے باعث بلوچستان کی تجارت، سرمایہ کاری اور معیشت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان شہدائے زیارت مانگی دھرنا کمیٹی کے تمام مطالبات کو جائز، آئینی اور عوامی مفاد پر مبنی سمجھتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ شہداء کے لواحقین کے مطالبات پر فوری عملدرآمد کیا جائے، واقعے میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں اور تاجروں، ٹرانسپورٹروں، سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔بیان کے آخر میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر، کابینہ اراکین اور ایگزیکٹو باڈی نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے شہدائے مانگی دھرنا کمیٹی کے مطالبات پر فوری، سنجیدہ اور عملی پیش رفت نہ کی اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور بدامنی پر قابو پانے میں ناکام رہی تو مرکزی انجمن تاجران بلوچستان آئندہ بھی آل پارٹیز اور شہدائے مانگی دھرنا کمیٹی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی اور ان کی جانب سے طے کیے جانے والے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن احتجاجی لائحہ عمل کی بھرپور حمایت اور عملی شرکت کرے گی۔ ساتھ ہی حکومت کو خبردار کیا گیا کہ اگر امن و امان کی صورتحال میں بہتری نہ لائی گئی تو بلوچستان کی تاجر برادری مزید سخت احتجاجی فیصلے کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں