پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری متاثرین کا بعض افراد پر تحقیقات میں روڑے اٹکانے کا الزام

پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری کے متاثرین نے حال ہی قائم ہونے والے یونیورسٹی کی مختلف ایسوسی ایشن کے اتحاد پر انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات کے راستے میں روڑے اٹکانے کا الزام عائد کر دیا ہے ۔
متاثرین کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی تیاری شروع ہوتے ہی بعض افراد نے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے اور متاثرین کو مسلسل خوار کرنے کی کوششیں شروع کردیں، جبکہ اسی مقصد کیلئے باڈی بھی تشکیل دی گئی۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ اب جبکہ ٹاؤن تھری کے معاملے میں حقائق سامنے آنے لگے ہیں، ان کی آواز مضبوط ہورہی ہے اور تحقیقات و احتساب کی بات کی جارہی ہے، ایسے میں مبینہ ذمہ داران کے گرد گھیرا تنگ ہونے پر بعض حلقوں کی بے چینی اور شور و غوغا سامنے آرہا ہے۔ ٹاؤن تھری کے معاملے کو دبایا یا بھلایا نہیں جاسکتا اور مصنوعی بحران پیدا کرکے اس سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی۔
ٹاؤن تھری کو پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ کے سنگین ترین مالی اور انتظامی تنازعات میں شمار کیا جارہا ہے۔ یہ معاملہ ہزاروں متاثرہ اساتذہ، ملازمین اور ان کے خاندانوں کی امیدوں، زندگی بھر کی جمع پونجی اور ادارے پر اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔دہائیوں گزرنے کے باوجود متاثرین کو پلاٹ نہ مل سکے، تاہم اس دوران اربوں روپے کے وسائل کے استعمال سمیت کئی سوالات مسلسل جواب طلب رہے۔متاثرین کی جانب سے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اس منصوبے کو موجودہ انجام تک پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں، اربوں روپے کے وسائل کہاں خرچ ہوئے، متاثرین کو انصاف سے کیوں محروم رکھا گیا اور اس معاملے میں انتظامی، قانونی اور مالی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں شور نہیں، انصاف چاہیے؛ نعروں کے بجائے جواب چاہیے اور توجہ ہٹانے کی نئی تدبیروں کے بجائے احتساب چاہیے۔
متاثرین کا مطالبہ ہے کہ ٹاؤن تھری کے حقائق سامنے لائے جائیں، متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے اور اگر اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آتی ہیں تو ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
17 جولائی کو پنجاب یونیورسٹی کی دیگر ایسوسی ایشنز نے ایک ساتھ مل کر کمیٹی تشکیل دی جس میں چیئرمین کیلئے پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال، صدر کیلئے چوہدری بشارت محمود اور سیکریٹری جنرل کیلئے طیب اعجاز خان اور کنونیئر کیلئے پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد کے ناموں کا اعلان کیا ۔
وائس چیئرمینز میں پروفیسر ڈاکٹر مقیت جاوید بھٹی چوہدری گلفام ناصر، ڈاکٹر اسلم حیات اور رانا انتخاب عالم شامل ہیں، جبکہ میڈیا کمیٹی میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن نیازی، پروفیسر ڈاکٹر کامران مرزا، ڈاکٹر ماجد علی، تنویر اعوان، حماد بٹ، اور اظہر اقبال بلوچ شامل ہوں گے۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ تمام انتقامی کارروائیاں فوری طور پر ختم کی جائیں، ملازمین اور اساتذہ کے مسائل بلا تاخیر حل کیے جائیں، امتیازی سلوک بند کیا جائے اور ادارے میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی حکمرانی بحال کی جائے۔ انتظامیہ نے اپنی روش نہ بدلی تو پورے ادارے میں ایک بھرپور منظم اور فیصلہ کن احتجاجی تحریک چلائی جائے گی ۔کمیٹی نے اعلان کیا کہ آسا کی جانب سے اعلان کردہ پریس کانفرنس اب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشترکہ پریس کانفرنس ھو گی۔ کانفرنس میں انتظامی و مالی بے ضابطگیوں، یونیورسٹی کو درپیش سنگین مسائل اور دیگر اہم معاملات پر تفصیلی مؤقف پیش کیا جائے گا۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج، دھرنوں، قلم چھوڑ ہڑتال، کلاسوں کے بائیکاٹ اور دیگر جمہوری، قانونی و احتجاجی اقدامات سمیت آئندہ کا مکمل لائحۂ عمل بھی پیش کیا جائے گا۔
ترجمان پنجاب یونیورسٹی نے موقف دیتےہوئے کہا ا کہ کمیٹی دراصل کرپشن بچاؤ کمیٹی ہے، کمیٹی میں شامل اہم شخصیات کے خلاف کرپشن اور دیگر الزامات پر انکوائریاں جاری ہیں، کمیٹی کا پس پردہ مطالبہ ان انکوائریوں کی بندش ہے، کمیٹی کے گروپوں نے یونیورسٹی کو ماضی میں مالی و انتظامی بحران سے دوچار کیا، پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کمیٹی کے دباو میں آئے بغیر قانونی انکوائریاں جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں