زیارت: سنرزئی قبائل کا نواب ایاز سے ثالثی اختیار واپس لینے کا اعلان، شنوائی نہ ہونے پر احتجاج

کوئٹہ (این این آئی) زیارت کے سنرزئی قبائل کے معتبرین ملک محراب خان کا کٹر، ملک گل زیب خان، نصر اللہ خان، عنایت اللہ، عبدالغفور اور دیگر نے کہا ہے کہ 15 جون 2021 کو زیارت میں پیش آنے والے واقعے کے بعد نواب ایاز خان جوگیزئی سے ثالث کا اختیار واپس لینے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 15 جون 2021 کو زیارت میں سنرز کی اور سید زئی قبائل کے درمیان قبائلی رنجش کے دوران فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا جس کو جواز بناکر مخالف فریق نے زیارت شہر میں موجودہ سنرز کی قبیلے کی جائیداد، دکانوں، ہو ٹلز اور ریسٹ ہاؤس پر حملہ کر کے لوٹ مار کے بعد مبینہ طور پر املاک در جنوں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا، اس دوران دیگر قبائل نے کشیدگی کو روکنے کیلئے مثبت کردار ادا کیا، جرگہ میں نواب ایاز خان جوگیزئی کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کو ہم نے قبول کیا جرگہ نے جنگ بندی کی غرض سے ہمارے لوگوں کو زیارت شہر جانے سے روکا تاہم اس دوران پورے چار سال میں جرگہ نے مسلے کے حل کے لئے مبینہ طور پر کوئی مناسب قدم نہیں اٹھایا اور مخالف فریق کو کھلی چھوٹ دی گئی جس نے ہمارے خلاف مبینہ طور پر کارروائیوں کا طویل سلسلہ جاری رکھا ہے، جس میں ہمارے 12 افراد زخمی اور ایک شہید ہوا، ہر واقعے کی بابت فوری ہم نواب ایاز خان جوگیزئی اور متعلقہ کمیٹی سے رجوع کرتے رہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چار سال کے دوران نواب ایاز خان جوگیزئی نے بذات خود نہ فریقین کے بیانات اور دلائل سنے اور نہ ہی شہادتوں کا جائزہ لیا بلکہ انہوں نے زیارت، سنجاوی اور ہر نائی کے معتبرین اور معززین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی اور تمام تر معاملات کمیٹی کے سپرد کئے۔ کمیٹی نے فریقین کے بیانات اور دلائل سننے، دستاویزات اور شہادتوں کی چھان بین کر کے متفقہ طور پر تحریری سفارشات مرتب کیں اور کمیٹی کے ارکان بشمول نواب ایاز خان جوگیزئی نے متفقہ طور پر مرتب کردہ سفارشات کی منظوری کے بعد دعائے خیر کی مگر بد قسمتی سے سوشل میڈیا پر فیصلے کی مبینہ تاریخ کا اعلان کرنے سے چند دن قبل اپنی تشکیل کردہ کمیٹی کی سفارشات سے بغیر کسی وجہ اور دلیل کے نواب ایاز خان نے مبینہ طور پر انکار کر دیا اس دوران کمیٹی کے اکثریتی ارکان کے اختلافات سامنے آئے اور انہوں نے فیصلے سے الگ ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر یس کا نفرنس کے توسط سے ثالثی اختیار سے دستبرداری اور نواب ایاز خان جوگیزئی سے ثالث کا اختیار واپس لینے کا اعلان کرتے ہیں اب ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس معاملہ سے خود کو الگ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں