تسپ کا قابلِ فخر سپوت انجینئر حافظ زاہد اسحاق، محنت اور قابلیت سے عالمی سطح پر بلوچستان کا نام روشن کر دیا

تسپ کا قابلِ فخر سپوت انجینئر حافظ زاہد اسحاق

محنت، کردار اور کامیابی کی روشن مثال

تحریر: اورنگزیب خالد

کسی بھی علاقے کا اصل سرمایہ اور پہچان اس کی عمارتیں یا وسائل نہیں ہوتے، بلکہ وہ باکردار، باصلاحیت، انسان دوست، ہمدرد، تعلیم یافتہ اور مخلص لوگ ہوتے ہیں جو اپنی محنت، کردار اور خدمت سے اپنی سرزمین کا نام روشن کرتے ہیں اور جن کی زندگی دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

میں ہمیشہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اس بات کا ذکر کرتا رہتا ہوں کہ وہ انسان جو خود غرض ہو، مطلب پرست ہو، صرف اپنی ذات تک محدود رہے، دوسروں کو حقیر سمجھے، عہدے پر پہنچ کر تکبر اختیار کرے، اور جس کے وجود سے نہ اس کے خاندان، نہ اس کے علاقے، نہ اس کی قوم اور نہ ہی انسانیت کو کوئی فائدہ پہنچے، تو ایسی تعلیم اپنے حقیقی مقصد کو پورا نہیں کرتی۔ کیونکہ تعلیم کا اصل حسن اعلیٰ کردار، عاجزی، احساسِ ذمہ داری، خدمتِ خلق اور انسان دوستی میں ظاہر ہوتا ہے۔ میرے نزدیک حقیقی تعلیم یافتہ وہی شخص ہے جس کے علم، کردار اور منصب سے دوسروں کو خیر، امید اور آسانی ملے۔

اس کے برعکس، جب کسی ایسے انسان کو اللہ تعالیٰ عزت، مقام اور ذمہ داری عطا کرتا ہے جو اپنے منصب کو خدمت کا ذریعہ بناتا ہے، اپنی قوم، اپنے علاقے اور اپنے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، تو ایسے لوگ معاشرے کا حقیقی سرمایہ اور گوہرِ نایاب ہوتے ہیں۔ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ والدین جنہوں نے ایسی اولاد کی تربیت کی ہو، اور خوش نصیب ہوتے ہیں وہ علاقے جن کی مٹی ایسے باکردار، باصلاحیت اور بے لوث انسان پیدا کرتی ہے، جو اپنی کامیابی کے باوجود عاجزی، خلوص اور انسان دوستی کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔

تسپ، ضلع پنجگور کی سرزمین بھی ایسی ہی شخصیات سے مالا مال ہے۔ اس مٹی میں ایسے بہت سے نام اور کردار موجود ہیں جن کے متعلق میں وقتاً فوقتاً اپنی ناقص سوچ اور محدود فہم کے مطابق اظہارِ خیال کرتا رہتا ہوں۔ جتنا مجھ جیسے بندۂ ناچیز سے ممکن ہوتا ہے، میں اپنے علاقے کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔

تسپ، پنجگور کے انہی درخشاں ناموں میں ایک نام انجینئر حافظ زاہد اسحاق صاحب کا ہے، جن کا تعلق اسحاق آباد، تسپ، ضلع پنجگور سے ہے۔ انہوں نے مدرسہ دارالعلوم ایراپ سے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی، گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول تسپ سے میٹرک، گورنمنٹ ڈگری کالج پنجگور سے ایف ایس سی، جبکہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (BUET) خضدار سے سول انجینئرنگ میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اپنے شعبے میں یونیورسٹی پوزیشن ہولڈر بھی رہے، جو ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اسی جامعہ میں بطور لیکچرار خدمات انجام دے کر نوجوان انجینئرز کی علمی رہنمائی بھی کی۔

سن 2013ء میں وہ بلوچستان اوپن میرٹ پر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (موجودہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی) میں بطور سول انجینئر منتخب ہوئے۔ اپنی قابلیت، دیانت داری اور غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت وہ مختصر عرصے میں نمایاں ہوئے اور 2015ء میں پاکستان کے کم عمر ترین پروجیکٹ ڈائریکٹرز میں شمار ہونے لگے۔ یہ اعزاز ان کی محنت، اہلیت اور قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف تھا۔

اپنے پیشہ ورانہ سفر کے دوران انہوں نے ملک کے کئی بڑے اور اہم منصوبوں پر کامیابی سے کام کیا۔ کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے جدید ٹرمینل کی تعمیر اور رن وے کی ازسرِنو تعمیر میں ان کا کردار نہایت اہم رہا۔ اسی منصوبے کو بعد ازاں FIDIC Asia Pacific Engineering Excellence Award سے بھی نوازا گیا، جو عالمی سطح پر انجینئرنگ کے شعبے کا ایک معتبر اعزاز ہے۔

اس وقت وہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے تحت جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے رن وے اپ گریڈیشن منصوبے میں بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں یہ منصوبہ مقررہ مدت کے اندر، بغیر کسی اضافی لاگت (Cost Overrun)، بغیر کسی Contractual Claim اور اعلیٰ حفاظتی معیار کے ساتھ مکمل ہوا۔ منصوبے کے دوران تقریباً ساٹھ ہزار سے زائد طیاروں کی آمدورفت اور ایک کروڑ کے قریب مسافروں کی محفوظ آپریشنل سہولت کو برقرار رکھنا ایک غیر معمولی کامیابی تھی، جسے ملکی و بین الاقوامی ماہرین نے سراہا۔

اسی طرح سکھر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نئے منصوبے کی منصوبہ بندی، ڈیزائن اور ترقی میں بھی انہوں نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی، اور انہوں نے بینکاک میں منعقدہ ICAO Asia-Pacific Regional Aviation Safety Team (APRAST) کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کراچی رن وے منصوبہ پیش کیا، جسے بین الاقوامی ماہرین نے سراہا۔

انجینئر حافظ زاہد اسحاق صاحب نے جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور یورپ کے مختلف ممالک میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی تربیت، انجینئرنگ کانفرنسز، ایوی ایشن سیفٹی کورسز، پروجیکٹ مینجمنٹ ورکشاپس اور تکنیکی سیمینارز میں شرکت کرکے اپنے علم اور تجربے میں مسلسل اضافہ کیا۔ انہیں متعدد Letters of Appreciation، Commendation Certificates اور قومی و بین الاقوامی سطح پر مختلف پیشہ ورانہ اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

انجینئر حافظ زاہد اسحاق صاحب ایک نہایت نفیس، خوش اخلاق، ملنسار، ہمدرد اور اعلیٰ ظرف انسان ہیں، جن کی سوچ وسیع اور حبِ انسانیت سے سرشار ہے۔ ان کی شخصیت میں سادگی، انکساری اور محبت اس انداز سے رچی بسی ہے جو قابلِ تعریف ہے۔ وہ ہمیشہ لوگوں کی عزت کرتے ہیں، اپنے علاقے سے محبت رکھتے ہیں اور جہاں بھی جاتے ہیں اپنی گفتگو، کردار اور عمل سے اچھا تاثر چھوڑتے ہیں۔

لیکن انسان کی اصل عظمت صرف اس کے عہدے سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پہچانی جاتی ہے۔ خصوصاً تسپ کے نوجوانوں کے لیے ان کی زندگی ایک روشن مثال ہے۔ ان کا سفر یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر انسان بڑے خواب دیکھے، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھے، تعلیم کو اپنی ترجیح بنائے اور مسلسل محنت کرتا رہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے کامیابی سے نہیں روک سکتی۔

ہمیں اپنے علاقے کی ایسی شخصیات پر دل سے فخر ہے جو جہاں بھی ہوں، اپنی محنت، دیانت، کردار اور قابلیت سے اپنی سرزمین اور اپنے ملک کا نام روشن کر رہی ہیں۔ انجینئر حافظ زاہد اسحاق صاحب بلاشبہ تسپ کا ایک قیمتی سرمایہ، نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ اور پورے پنجگور کے لیے باعثِ افتخار ہیں۔

اللہ تعالیٰ انجینئر حافظ زاہد اسحاق صاحب کو صحت، عزت، مزید کامیابیاں اور برکتوں سے نوازے، اور انہیں ہمیشہ اسی خلوص، دیانت اور خدمت کے جذبے کے ساتھ وطنِ عزیز کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں