بھارت میں این ای ای ٹی امتحانات میں مبینہ بےضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ کے احتجاج پر گلوکار سونو نگم کا ایک مختصر ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ صحافیوں کے سوالات پر شدید بیزاری اور غصے کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔
میڈیا گفتگو کے دوران جب صحافیوں نے سونو نگم سے طلبہ کی تحریک کے بارے میں ان کا موقف جاننا چاہا تو گلوکار نے بات ٹالنے کی کوشش کی اور اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر بات کرنے نہیں آئے۔
سونو نگم تکلیف دہ اعصابی بیماری میں مبتلا، متعدد ٹیسٹ اور ادویات سے ہلکان
صحافیوں کے بار بار سوال پوچھنے پر وہ برہم ہوگئے اور کہا ’ابھی ہو گیا، بس!‘، جس کے بعد وہ گفتگو فوراً ختم کر کے چلے گئے۔
سونو نگم کے اس رویے کے بعد انٹرنیٹ پر بحث چھڑ گئی جہاں متعدد صارفین نے سونو نگم کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ سلیبریٹیز تب خاموش رہتے ہیں جب معاملہ عوامی مفاد کا ہو۔
ایک صارف نے لکھا، ’صرف صلاحیت ہونا انسان کو اچھا نہیں بناتی۔ یہ رویہ شرمناک ہے۔‘

