بالی ووڈ کی معروف اداکارہ پریتی زنٹا کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والے طلبہ احتجاج کے بارے میں پوسٹ کرنا مہنگا پڑ گیا۔
پریتی زنٹا نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں نئی دہلی میں جاری طلبہ احتجاج کے بارے میں لکھا کہ اگرچہ یہ ضروری ہے کہ اپنے طلبہ کی حمایت کریں اور ایسی تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کریں جو ہمارے نوجوانوں کے مستقبل پر مثبت اثر ڈالیں لیکن یہ بھی بہت اہم ہے کہ طلبہ کے پرامن احتجاج کو ملک دشمن عناصر نے افراتفری پھیلانے اور احتجاج کی نوعیت کو تبدیل کرنے کے لیے ہائی جیک نہ کیا ہو۔
انہوں نے لکھا کہ سوشل میڈیا پر اتنی نفرت دیکھ کر مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ کیا ہمارے ملک کے اندر اور باہر موجود برے عناصر نے پہلے ہی ہمارے طلبہ کے غصے اور مایوسی کو ہتھیار بنانے کے لیے اوور ٹائم کام کرنا شروع کر دیا ہے۔
اداکارہ نے لکھا کہ میں نے ہمیشہ محنت اور مساوات پر یقین رکھا ہے اور ان چیزوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ میں جمہوریت اور اپنی حکومت پر بھی یقین رکھتی ہوں، اس لیے مجھے پوری امید ہے کہ دونوں فریق بامعنی مذاکرات کریں گے اور مذموم عناصر اور ایجنڈے کو ناکام بنائیں گے تاکہ ہمارے نوجوانوں اور جمہوریت کا مستقبل روشن ہو۔
جاہل رہنما عوام کو بھی اپنی طرح جاہل بنانا چاہتے ہیں: نصیر الدین شاہ طلبہ پر تشدد ہوتا دیکھ کر برہم
پریتی زنٹا کی یہ پوسٹ کچھ ہی لمحات میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور انہیں بھارتی عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بھارتی صارفین کا کہنا ہے کہ اداکارہ نے مودی حکومت کی جانب سے موصول ہوئی اسکرپٹڈ پوسٹ شیئر کی ہے، یہ مشہور شخصیات جنہوں نے عوامی مسائل پر کبھی بات نہیں کی انہیں اچانک ایسی تحریکوں کی حمایت کا خیال کیسے آ گیا۔
بھارتی صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان مشہور شخصیات کو حکومت کی جانب سے موصول ہوئے اسکرپٹ پر مبنی پوسٹ شیئر کر کے ان کے نقصان کو کنٹرول کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یا تو آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کریں یا پھر ہمیشہ کی طرح خاموش ہی رہیں۔

