پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانزک شواہد کی بنیاد پر ثاقب خان قصور وار ثابت ہو چکے۔
انہوں نے اپنے جاری قانونی مقدمے سے متعلق اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانزک شواہد میرے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔
اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوریز شیئر کرتے ہوئے مقدمے سے متعلق تازہ پیش رفت پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کی ہے۔
فرانزک شواہد کی بنیاد پر ثاقب خان قصور وار ثابت ہو چکے: مومنہ اقبال
اپنے بیان میں مومنہ اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ ثاقب خان کے خلاف فرانزک شواہد موجود ہیں، جبکہ سمیرا خان بھی تحقیقات میں شامل ہو چکی ہیں، کیونکہ اب نہ کوئی رعایت ملے گی اور نہ ہی کوئی دوسرا راستہ باقی ہے۔
مومنہ اقبال نے تسلیم کیا کہ مقدمے کی عدالتی کارروائی ابھی جاری ہے اور بعض افراد یہ کہیں گے کہ ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں آیا، تاہم قانونی کارروائی کا ہر مرحلہ انصاف کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
مومنہ اقبال کا وائرل ویڈیو پر ردِعمل، ہراسانی کے مقدمے کو ’ذاتی معاملہ‘ قرار دینے پر برہم
انہوں نے لکھا کہ مجھے معلوم ہے کہ کچھ جاہل لوگ اب بھی کہیں گے کہ ابھی سزا نہیں ہوئی، ظاہر ہے وہ ایک ایم پی اے ہیں، اس لیے یہ اتنا آسان نہیں، ہم پر مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ اور دھمکانے کی کوششیں کی گئیں، لیکن ہر پیش رفت ہمیں انجام تک، یعنی کیے گئے اعمال کی سزا تک، مزید قریب لے جا رہی ہے۔
اداکارہ نے عدالت سے باہر رقم یا زمین کے بدلے سمجھوتہ کرنے سے متعلق افواہوں کو بھی مسترد کیا، انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ جو لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ میں نے کتنے کروڑ روپے یا کتنے ایکڑ زمین لے کر سمجھوتہ کیا، کیا ان کے خیال میں ملزم اور اس کی اہلیہ صرف چائے پینے کے لیے عدالت آتے ہیں؟
مومنہ اقبال اس وقت پنجاب اسمبلی کے رکن ثاقب خان اور ان کی اہلیہ سمیرا خان سے متعلق ایک نمایاں قانونی تنازع میں فریق ہیں۔
اداکارہ کے اہلِ خانہ اور ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے پہلے جاری کی گئی معلومات کے مطابق ثاقب خان پر الزام ہے کہ انہوں نے مومنہ اقبال کو شادی کی پیشکش کی تھی، بعد ازاں اداکارہ کو معلوم ہوا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں، جس کے بعد انہوں نے یہ پیشکش مسترد کر دی۔
مومنہ اقبال کا الزام ہے کہ اس کے بعد مجھے ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس پر میں نے قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کیا۔
یہ مقدمہ تاحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے، مومنہ اقبال نے فرانزک شواہد اور دیگر معاملات سے متعلق دعوے کیے ہیں، تاہم ان دعوؤں پر عدالتی کارروائی جاری ہے اور ابھی تک اس مقدمے میں کوئی حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

