لسبیلہ(بیوروچیف)وندر، منرل واٹر کے نام پر ناقص و مضر صحت پانی فروخت کیے جانے کا انکشاف جعلی برانڈز اور غیر معیاری واٹر پلانٹس انسانی جانوں سے کھلے عام کھیلنے لگے ۔ تفصیلات کے مطابق وندر میں “منرل واٹر” کے لیبل لگا کر انسانی صحت کے ساتھ بدترین کھلواڑ کیا جا رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مختلف معروف کمپنیوں کے جعلی لیبل چسپاں کر کے ناقص غیر فلٹر شدہ اور غیر رجسٹرڈ پانی بوتلوں میں پیک کر کے شہر بھر اور دیگر علاقوں میں سپلائی کیا جا رہا ہے ۔ وندر شہر میں اس وقت متعدد ایسے واٹر پلانٹس قائم ہیں جو کہ غیر قانونی اور نان رجسٹرڈ میں شامل ہیں مگر بڑے برانڈز کے جعلی نام پر ان کی بوتلیں دھڑلے سے مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق یہ پانی عموماً آلودہ ذرائع جیسے زیر زمین کھارے پانی یا کھلے کنووں سے حاصل کیا جاتا ہے جو بغیر کسی طبی یا سائنسی جانچ کے شہریوں کو صاف پانی یعنی منرل واٹر کے نام پر فروخت کیا جا رہا ہے ۔ یہی ناقص اور زہریلا پانی معصوم بچوں ، بزرگوں اور کمزور مدافعت رکھنے والے افراد کے لیے مہلک ثابت ہو رہا ہے ۔ اس مضر صحت پانی میں خطرناک بیکٹیریاز کیمیکل اور مہلک اجزاء شامل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے شہری پیٹ کی بیماریوں ، جلدی امراض ، ہیپاٹائٹس ، ڈائریا اور دیگر وبائی انفیکشنز میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ جبکہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ان غیر قانونی پلانٹس پر نہ آج تک کوئی چھاپہ مارا گیا ہے اور نہ ہی کسی پلانٹ کو سیل کیا گیا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی مجرمانہ خاموشی عوام میں شدید غم و غصے کا باعث بن رہی ہے ۔ وندر کے سیاسی سماجی اور شہری حلقوں نے متعلقہ اداروں سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وندر شہر میں جعلی و نان رجسٹرڈ واٹر پلانٹس کو فوری طور سیل کر کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو صاف اور معیاری پانی کی فراہمی یقینی ہو سکے ۔

