سیوی(رپورٹڑ)زمیندار ایکشن کمیٹی نے کھاد اور زرعی پانی کی عدم فراہمی کے خلاف ڈپٹی کمشنر سیوی کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا دیا احتجاج کی قیادت سردار ابراہیم خان باروزئی نے کی، جبکہ مظاہرے میں سیوی کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں زمینداروں نے شرکت کی مظاہرین نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری طور پر کھاد کی ترسیل بحال کرنے اور زرعی زمینوں تک پانی کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا اس موقع پر سردار ابراہیم خان باروزئی اور دیگر زمیندار رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زمیندار پہلے ہی مختلف مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ کھاد کی ترسیل میں رکاوٹ اور زرعی پانی کی قلت نے فصلوں کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے انہوں نے کہا کہ زمینداروں کی فصلیں اس وقت اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں اور بالخصوص کپاس کی فصل پھولوں کے مرحلے میں ہے، جسے بروقت کھاد اور پانی کی اشد ضرورت ہے سردار ابراہیم خان باروزئی نے کہا کہ ایسے وقت میں کھاد کی ترسیل بند ہونا زمینداروں کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اگر فصلوں کو بروقت کھاد اور پانی نہ ملا تو اس کے نتیجے میں نہ صرف زمینداروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا بلکہ علاقے کی زرعی معیشت بھی متاثر ہوگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ زمینداروں کی فصلوں کو دانستہ طور پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور متعلقہ ادارے زمینداروں کے مسائل کے حل میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے انہوں نے کہا کہ ناڑی ڈیم سے آنے والے چینل کی صفائی نہ ہونے کے باعث قیمتی پانی ضائع ہو رہا ہے اور ضرورت کے مطابق پانی زرعی زمینوں تک نہیں پہنچ پا رہا۔ حکومت اور محکمہ آبپاشی فوری طور پر چینل کی صفائی کروا کر پانی کی روانی بحال کرے تاکہ فصلوں کو بروقت پانی فراہم کیا جاسکے زمیندار رہنماؤں کا کہنا تھا کہ زراعت سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار فصلوں سے وابستہ ہے، اس لیے حکومت کو زمینداروں کے مسائل کو محض احتجاج کا معاملہ سمجھنے کے بجائے سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کھاد کی ترسیل فوری طور پر یقینی بنائی جائے، زرعی پانی کی منصفانہ فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ناڑی ڈیم کے چینل کی ہنگامی بنیادوں پر صفائی کرائی جائے سردار ابراہیم خان باروزئی نے خبردار کیا کہ اگر زمینداروں کے جائز مطالبات فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور زمیندار شاہراہ پر احتجاج کرتے ہوئے ہائی وے بلاک کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی زمیندار ایکشن کمیٹی نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ سیوی اور محکمہ آبپاشی سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے زمینداروں کو درپیش کھاد اور پانی کے مسائل حل کیے جائیں تاکہ فصلوں کو تباہی سے بچایا جاسکے اور علاقے کی زرعی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہ سکیں

