کوئٹہ(این این آئی) نیشنل کمیشن برائے اطفال بلوچستان، محکمہ سماجی بہبود، یونیسف اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے کوئٹہ میں ایک اہم لابنگ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میٹنگ کا مقصد بلوچستان میں کم عمری میں شادی کی ممانعت سے متعلق قانون سازی کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر غور کرنا اور بل کو بلوچستان اسمبلی سے منظور کرانے کے لئے ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔میٹنگ میں نیشنل کمیشن برائے اطفال بلوچستان کے ممبر ایڈووکیٹ عبدالحئی، سوشل ویلفیئر کے ڈپٹی ڈائریکٹر ناصر بلوچ، یونیسف کی نمائندہ بشریٰ، یو این ایف پی اے کی صوبائی ہیڈ سادیہ عطا، ایڈ بلوچستان کے میر بہرام لہڑی، سینئر صحافی میر بہرام بلوچ، ہیومن رائٹس کے اسفندیار بادینی، نیشنل کمیشن کے علی رضا، ہیلپ لائن کے اشفاق مینگل، دانش کے مینجر سعید کھوڑو، اسلامک ریلیف کے شاہد عزیز، سوشل ویلفیئر کی سعیدہ منان اور متعدد سول سوسائٹی نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی ممانعت کا بل 2013 سے التوا کا شکار ہے، حالانکہ یہ بل بلوچستان کابینہ سے منظور ہوچکا ہے اور صرف اسمبلی میں پیش کیے جانے کا منتظر ہے۔ شرکاء نے اس تاخیر کی شدید مذمت کی اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ بل کو فوری طور پر اسمبلی میں پیش کیا جائے۔اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جنہوں نے سب سے پہلے صوبہ سندھ میں 2014 میں کم عمری کی شادی کی ممانعت کا قانون منظور کیا۔ اب جب کہ یہ بل وفاق میں پیش کیا گیا تو پوری دنیا نے دیکھا کہ پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر بچوں کے حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے صدر جناب آصف علی زرداری کی قیادت میں اس قانون کو منظور کرایا۔سول سوسائٹی نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر علی مردان خان ڈومکی سے بھی پْر امید توقعات کا اظہار کیا، جنہوں نے 2018 میں ایک سیمینار کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ اس قانون کو اسمبلی سے منظور کرائیں گے۔ میٹنگ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ کی بچوں سے متعلق حساس سوچ اس قانون کی منظوری میں اہم کردار ادا کرے گی۔ شرکاء نے اس قانون کو صرف انسانی حقوق کے تناظر میں نہیں بلکہ صحت عامہ کے زاویے سے بھی دیکھنے پر زور دیا۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ کم عمری میں شادی نوجوان بچیوں کی صحت کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے، جس سے فسٹولا جیسے موذی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، 18 سال کی عمر تک لڑکیوں کے جسمانی اعضاء مکمل نشوونما کے مرحلے میں ہوتے ہیں، اور اس عمر میں زچگی نہ صرف ماں بلکہ بچے کے لیے بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔آخر میں تمام شرکاء نے بل کی منظوری کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور تمام سیاسی جماعتوں، خاص طور پر بلوچستان اسمبلی کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے اس بل کی منظوری میں اپنا کردار ادا کریں۔

